اسلام آباد: پاک افغان سرحد پر افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال حملے کے جواب میں پاک فوج نے فیصلہ کن اور جامع جوابی کارروائی کی، جس میں دو سو سے زائد طالبان اور منسلک دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ پاکستان کے 23 بہادر جوان شہید اور 20 فوجی زخمی ہوئے۔
سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ: صوبے میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ریلیوں پر پابندی
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے رات کے اوقات میں سرحدی پٹی کے ساتھ پاکستان میں بلا اشتعال فائرنگ، چھاپے اور دہشت گردانہ کارروائیاں کیں جن کا مقصد سرحدی علاقوں کو غیر مستحکم کر کے دہشت گردوں کی سہولت کاری کرنا تھا۔ چوکس پاکستانی مسلح افواج نے حملوں کو سختی سے پسپا کیا اور فائرنگ، فضائی کارروائیوں اور چھاپوں کے ذریعے طالبان کے کیمپ، چوکیوں اور تربیتی مراکز کو شدید نقصان پہنچایا۔
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ جوابی کارروائیوں میں سرحدی پٹی کے ساتھ طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ کیے گئے اور دشمن کی 21 چوکیوں پر قبضہ قائم کر لیا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد تربیتی کیمپس اور دہشت گرد تنظیموں کے بنیادی ڈھانچے کو ناکارہ بنایا گیا۔ ملکی شہریت اور سویلین محفوظ رکھنے کے لئے کولیٹرل نقصان کم سے کم رکھنے کے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی افواج عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں اور دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائیاں جاری رہیں گی۔ آئی ایس پی آر نے افغان حکومت اور طالبان قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ فتنۃ الہندوستان، فتنۃ الخوارج اور داعش جیسے عناصر کے خلاف فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے، کیونکہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ناقابلِ قبول ہے۔
پاک فوج نے یہ بھی کہا کہ پاکستان تشدد کے بجائے تعمیری سفارتکاری اور بات چیت کو ترجیح دیتا ہے، مگر اپنے عوام کے دفاع کے حق سے ہر صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
