کراچی: ناظم آباد میں واٹر کارپوریشن اور سندھ رینجرز نے مشترکہ بڑی کارروائی کرتے ہوئے غیر قانونی پانی چوری کا منظم نیٹ ورک پکڑ لیا۔ کارروائی کی نگرانی میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے خود موقع پر پہنچ کر کی، جبکہ سی او او واٹر کارپوریشن اسد اللہ خان بھی جائے وقوعہ پر موجود تھے۔
کراچی: اورنگی ٹاؤن میں ڈکیتی مزاحمت پر شہری کے قتل میں ملوث ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے مطابق سیف اللہ بنگش ہوٹل کے قریب خفیہ سرنگوں کے ذریعے قائم آٹھ غیر قانونی کنیکشن پکڑے گئے۔ تین ماہ قبل بھی اسی مقام پر غیر قانونی کنیکشن ختم کیے گئے تھے، تاہم دوبارہ پانی چوری کا انکشاف ہوا۔
واٹر کارپوریشن کی اینٹی تھیفت ٹیم نے کارروائی کے دوران تمام آٹھ کنیکشن ختم کر دیے۔ میئر کراچی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں روزانہ تقریباً 30 لاکھ گیلن پانی چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ پانی کے کنیکشنز گھروں کے تہخانوں سے خفیہ سرنگوں کے ذریعے نکالے گئے تھے، یہاں تک کہ انسانی جسم سرنگ میں لیٹ کر پائپ جوڑنے کے شواہد بھی ملے۔
انہوں نے کہا کہ چوری شدہ پانی شہریوں اور ادارے دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا تھا۔ سندھ رینجرز نے کارروائی کے دوران واٹر کارپوریشن کی ٹیم کو مکمل سیکیورٹی فراہم کی۔
میئر کراچی نے واضح کیا کہ پانی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، ان کے خلاف عدالتوں اور ٹریبونل کے ذریعے مقدمات چلائے جائیں گے۔
مرتضیٰ وہاب نے پانی چوری کے خلاف مؤثر کارروائی پر رینجرز اور واٹر کارپوریشن ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے وسائل لوٹنے والوں کے خلاف سخت اقدامات جاری رہیں گے۔
