کراچی: ایس بی سی اے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ

کراچی (رپورٹ) — گلشن اقبال میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے نام پر مبینہ طور پر بھاری رشوت لینے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق گلشن اقبال بلاک 5 پلاٹ نمبر A-29 اور گلشن اقبال بلاک 13D-1 پلاٹ نمبر 93 کو 6 اکتوبر کو ایس بی سی اے کی ڈیمولیشن لسٹ میں شامل کیا گیا تھا، تاہم عملی طور پر صرف “کاسمیٹک” کارروائی کرکے کارروائی کو دکھاوا بنا دیا گیا۔

بھارت پاکستان پر دوبارہ میزائل حملہ کرسکتا ہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ

اطلاعات کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر مبشر احمد اور ڈیمولیشن آفیسر نے مبینہ ملی بھگت سے ان غیر قانونی تعمیرات کو لسٹ میں ڈالنے کے بعد لاکھوں روپے رشوت لے کر معاملہ دبا دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بدعنوانی کے ثبوت بھی موجود ہیں۔

عوامی حلقوں نے ڈی جی ایس بی سی اے مزمل حسین، وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ اور اینٹی کرپشن کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ ایس بی سی اے کے ایسے افسران کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کی جائے تاکہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن صرف دکھاوے تک محدود نہ رہے۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “کراچی: ایس بی سی اے افسران کی مبینہ ملی بھگت سے غیر قانونی تعمیرات کو تحفظ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!