کراچی: سندھ حکومت نے سندھ موٹر وہیکل رولز 1969 میں اہم ترامیم کرتے ہوئے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کردیا۔
جعفر ایکسپریس کو جیکب آباد میں روک دیا گیا، رواں ہفتے تیسری بار ٹرین سروس معطل
ترمیم شدہ قوانین کے تحت بھاری کمرشل گاڑیوں کے مالکان کو نئی شرائط پر عمل کرنا لازمی ہوگا، جن میں فٹنس سرٹیفکیٹ، گاڑیوں کی عمر کی حد اور جدید حفاظتی نظام شامل ہیں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے مطابق:
-
انٹر پروونشل روٹس پر 20 سال سے زائد پرانی گاڑیوں کو پرمٹ نہیں ملے گا۔
-
انٹر سٹی روٹس پر 25 سال سے زائد پرانی گاڑیاں چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
-
شہروں کے اندر گاڑیوں کے لیے عمر کی حد 35 سال مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال کے اندر قانون نافذ العمل ہوگا اور اس دوران تمام گاڑیوں کے لیے روڈ ویردی ٹیسٹ لازمی ہوگا۔ خلاف ورزی پر پہلے مرحلے میں معمولی جرمانہ، دوسری بار 2 لاکھ روپے اور تیسری بار 3 لاکھ روپے جرمانہ کیا جائے گا۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ:
-
فٹنس سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی گاڑی کو سڑک پر آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
-
اصلاح نہ ہونے کی صورت میں 14 دن بعد رجسٹریشن منسوخ کردی جائے گی۔
-
ہر گاڑی میں جی پی ایس ٹریکنگ ڈیوائس، پچھلے رخ کا ایچ ڈی کیمرہ، ڈرائیور مانیٹرنگ کیمرا اور انڈر رن پروٹیکشن گارڈز نصب کرنا لازمی ہوگا تاکہ حادثات کے دوران چھوٹی گاڑیاں یا موٹر سائیکلیں تلے آنے سے محفوظ رہ سکیں۔
