9 مئی کیس عمران خان کی ذاتی پیشی کی درخواست مسترد جیل سے ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش

انسدادِ دہشت گردی عدالت میں 9 مئی کے پرتشدد احتجاج کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔ عدالت نے ان کی ذاتی حیثیت میں پیشی کی درخواست مسترد کر دی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر افغان مہاجرین کی واپسی بھارتی دہشت گردی کے ثبوت دنیا کے سامنے

سماعت کے آغاز پر عمران خان کے وکیل فیصل ملک نے مؤقف اپنایا کہ منصفانہ ٹرائل اسی وقت ممکن ہے جب ملزم عدالت میں موجود ہو۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی حکومت کے نوٹیفکیشن کی کاپی انہیں ایک دن قبل ملی ہے اور وہ اس کے خلاف اعلیٰ عدالت سے رجوع کریں گے۔

دوسری جانب پراسیکیوٹر ظہیر شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ 2016 کی ترمیم کے بعد ویڈیو لنک کے ذریعے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق عمران خان کی ذاتی پیشی پر اصرار دراصل کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے اور وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔

بعدازاں عدالت نے عمران خان کو ویڈیو لنک پر پیش کرنے کی ہدایت دی۔ وکیل فیصل ملک کو بات کرنے کی اجازت دی گئی لیکن عدالت نے سیاسی گفتگو سے روک دیا۔ عمران خان اور ان کے وکلا نے کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے عدالت سے واک آؤٹ کیا۔

سماعت کے دوران استغاثہ کے دو گواہان سب انسپکٹر سلیم قریشی اور سب انسپکٹر منظور شہزاد کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ انہوں نے عدالت کو 13 یو ایس بی فراہم کیں جن میں 9 مئی کے واقعات سے متعلق عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کی ویڈیوز، اخباری تراشے اور سی سی ٹی وی فوٹیجز شامل تھیں۔

عدالت نے مزید 10 گواہان کو 23 ستمبر کی سماعت پر طلب کر لیا، جن میں پیمرا، ایف آئی اے، پی ٹی آئی، وزارتِ داخلہ، انٹرنل سکیورٹی اور پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے نمائندے شامل ہیں۔

واضح رہے کہ عمران خان پر اس کیس میں 5 دسمبر 2023 کو فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ وہ اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور جنوری 2024 میں انہیں 9 مئی کے احتجاجی کیس میں راولپنڈی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

67 / 100 SEO Score

One thought on “9 مئی کیس عمران خان کی ذاتی پیشی کی درخواست مسترد جیل سے ویڈیو لنک پر عدالت میں پیش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!