نئی دہلی: بھارتی وزارتِ خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والے اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پیش رفت کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے بڑھتے تعلقات اور دفاعی معاہدے کے بارے میں انہیں آگاہی ہے اور اس پر غور جاری ہے۔
شہباز شریف کے ہتک عزت کیس میں تحریری حکم جاری، فریقین کو 27 ستمبر کو طلبی
ترجمان نے کہا کہ ہم اس اہم پیش رفت کا جائزہ اپنی قومی سلامتی کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی استحکام کو مدِ نظر رکھتے ہوئے لے رہے ہیں۔ بھارت اس حوالے سے مسلسل کام کر رہا ہے اور ممکنہ اثرات پر توجہ مرکوز رکھے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران اسٹریٹجک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ اعلامیہ کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کی دہائیوں پر محیط شراکت داری کو مزید مضبوط بناتا ہے اور دفاعی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔
معاہدے کی شقوں کے مطابق کسی ایک ملک پر جارحیت دونوں ممالک پر جارحیت تصور ہوگی، جس کا مقصد مشترکہ دفاع، سلامتی اور خطے میں امن کے قیام کے لیے عزم کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
