سیکیورٹی ذرائع نے کہا ہے کہ فتنۃ الخوارج میں پے در پے ناکامیوں کے بعد اندرونی اختلافات شدت اختیار کر گئے ہیں اور خارجی سرغنہ کے کچھ ہولناک انکشافات منظرِ عام پر آئے ہیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں بڑی تر جمعیوں کو بارڈر کراسنگ کے دوران ہی روک کر بہت بڑے نقصانات پہنچائے گئے، جس کے باعث خارجی قیادت سخت تذبذب اور منتشر مزاج کا شکار ہو چکی ہے۔
وزیراعظم کا نوٹس، ترک نژاد خاتون نسلیحان کی ترکیہ واپسی کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت
ذرائع نے بتایا کہ خارجی نور ولی نے اپنی صفوں میں خوف و ہراس کے پیشِ نظر موبائل فون اور مواصلاتی آلات کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ علاوہ ازیں خارجی سرغنہ نے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مساجد، عوامی حجرات اور غیر قانونی افغان باشندوں کے گھروں کو دہشت گردانہ مواد بنانے اور چھپنے کے مقامات کے طور پر استعمال کریں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حکمتِ عملی کا مقصد عام آبادی میں گھل مل کر رہ کر سیکیورٹی فورسز کے ممکنہ آپریشنز کے دوران عوام کو ڈھال کے طور پر استعمال کرنا اور کسی بھی آپریشن کی صورت میں نقصان کی ذمہ داری عوام پر ڈالنے کا جھوٹا بیانیہ تیار کرنا ہے۔
ذرائع نے مزید کہا کہ خارجی عبدل صمد کے حالیہ انکشافات نے بھی اسی منصوبے کی نفی و تصدیق کی ہے کہ مساجد اور حجرات میں IED بنائے جاتے اور دہشت گرد وہاں چھپتے رہے۔ سوشل میڈیا پر جھوٹی، پرانی یا اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز اور تصاویر پھیلانا اور خاص طور پر بچوں کی جعلی ویڈیوز چلا کر عوام کو گمراہ کرنا بھی خارجیوں کا پرانا حربہ ہے اور اب یہ حکمتِ عملی خارجی قیادت کی نئی ہدایات میں شامل کی گئی ہے۔
مزید برآں، سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ خارجی سرغنہ نے غیر قانونی افغان شہریوں کو حملوں میں بڑھ چڑھ کر شامل کرنے کی ہدایات بھی جاری کی ہیں۔ مصدقہ معلومات کے مطابق حالیہ دیر اور جنوبی وزیرستان میں ہونے والے حملوں میں بڑی تعداد افغانستان سے آنے والے عناصر کی تھی۔ سیکیورٹی فورسز نے اعلان کیا ہے کہ وہ خارجی عناصر اور اُن کے سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کاروائی کے لیے مکمل تیار اور پُرعزم ہیں۔
