سینئر اداکارہ اسما عباس نے کہا ہے کہ پاکستانی ڈراموں میں بڑی عمر کے اداکاروں کے کردار محدود ہوتے جا رہے ہیں اور عموماً انہیں صرف والدین کے کرداروں تک محدود کر دیا جاتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان
’365 نیوز‘ کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے اسما عباس نے کہا کہ بڑی عمر کے افراد کے لیے بھی دلچسپ اور رومانوی کہانیاں لکھی جا سکتی ہیں کیونکہ اس عمر میں بھی محبت اور شادی ہوتی ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بشریٰ انصاری اور ثمینہ احمد کا ذکر کیا جنہوں نے بڑی عمر میں شادی کر کے ایک مثبت مثال قائم کی۔
اداکارہ نے افسوس کا اظہار کیا کہ ڈراموں میں بالغ جوڑوں کو شاذ و نادر ہی رومانوی بات چیت کرتے دکھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شوہر اور بیوی صرف بچوں کے مسائل پر ہی بات نہیں کرتے، بلکہ وہ ہلکی پھلکی اور خوشگوار زندگی بھی گزارتے ہیں۔
اسما عباس نے سوال اٹھایا کہ کیا کبھی کسی ڈرامے میں بڑی عمر کے شوہر کو اپنی بیوی سے یہ کہتے دکھایا گیا ہے کہ "چلیں ڈرائیو پر چلتے ہیں یا چائے کے لیے باہر چلتے ہیں؟”۔ ان کے مطابق حقیقت میں اس عمر کے لوگ نہ صرف خوشحال زندگی گزارتے ہیں بلکہ زیادہ خوش مزاج بھی ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چونکہ ان کی بہن بشریٰ انصاری نے زیادہ تر مزاحیہ کردار ادا کیے، اس لیے انہوں نے اپنی فنی کیریئر کی شروعات سنجیدہ کرداروں سے کی۔ ابتدا میں انہیں زیادہ تر غریب ماں کے کردار ملے جنہیں انہوں نے مہارت کے ساتھ نبھایا۔
