وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں حالیہ بارش کے باعث 4 افراد جاں بحق ہوئے تاہم مجموعی صورتحال قابو میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نادرن بائی پاس کے تعمیراتی کام میں منصوبہ بندی کے فقدان کے باعث سعدی ٹاؤن اور سعدی گارڈنز میں پانی داخل ہوا جبکہ کنٹونمنٹ علاقوں میں گرین بیلٹ پر قائم کثیرالمنزلہ عمارتیں بھی مسائل پیدا کر رہی ہیں۔
اسما عباس کا شکوہ: ڈراموں میں بڑی عمر کے کرداروں کے لیے رومانوی کہانیاں نہیں بنائی جاتیں
مراد علی شاہ نے بارش کے دوران شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعدی ٹاؤن برساتی پانی کے قدرتی راستے پر تعمیر کیا گیا ہے، یہی وجہ ہے کہ بارش کا پانی وہاں داخل ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہراہ بھٹو کا زیرتعمیر حصہ بھی پانی میں بہہ گیا تاہم سندھ حکومت سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ انتظامیہ بارش کے پانی کی نکاسی کے عمل میں مصروف ہے اور تمام ادارے متحرک ہیں، جن میں کے ایم سی، پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، میونسپل ٹاؤنز، واٹر بورڈ اور پولیس شامل ہیں۔
انہوں نے شہریوں کو آگاہ کیا کہ ملیر ندی سے پانی کا اخراج ہوتے ہی کورنگی کاز وے کلیئر ہو جائے گا، اس حوالے سے انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ شہریوں کو نشیبی علاقوں اور ندی نالوں کی صورتحال سے آگاہ رکھا جائے۔
بعدازاں مراد علی شاہ نے جناح ایونیو اور لیاری ندی کا بھی دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لیاری ندی میں پانی کا بہاؤ بہت زیادہ ہے جو منگھوپیر اور گڈاپ کی پہاڑیوں سے آتا ہے اور مختلف علاقوں سے گزرتا ہوا بندرگاہ تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو نکاسی آب کے کام میں مزید تیزی لانے کی ہدایت دی۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ حکومت تنقید کو برداشت کرتی ہے اور خامیوں کی نشاندہی کا خیر مقدم کرتی ہے، لیکن لسانی بنیادوں پر کی جانے والی تنقید درست نہیں ہے۔
