کراچی (اسٹاف رپورٹر) آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے سندھ پولیس کے شعبہ سی آئی اے کے ذیلی یونٹ "اینٹی وہیکل لفٹنگ سیل (اے وی ایل سی)” کی تنظیم نو کا فیصلہ کرتے ہوئے کراچی کے 3 اور اندرون سندھ کے 4 داخلی و خارجی راستوں پر ہائی وے پیٹرول کے ساتھ اے وی ایل سی کا عملہ تعینات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
عقیدہ ختم نبوت ﷺ دین کی بنیاد اور ایمان کی پہچان ہے، قربانی سے دریغ نہیں کریں گے: شاہد غوری
سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز کراچی، آپریشنز، ٹریننگ، ڈی جی سیف سٹی، ڈی آئی جیز کرائم و انویسٹی گیشنز، سی آئی اے، اسٹبلشمنٹ، ٹریننگ، آئی ٹی، ایس ایس پی اے وی ایل سی، سی پی ایل سی چیف ذبیر حبیب اور دیگر افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں ایس ایس پی اے وی ایل سی نے یونٹ کی کارکردگی، اغراض و مقاصد اور چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی نے بتایا کہ شہر میں ہونے والے دو تہائی جرائم گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کے واقعات سے متعلق ہیں، اس لیے اے وی ایل سی کی تنظیم نو ناگزیر ہے۔ سی پی ایل سی چیف نے کہا کہ چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کی تفتیش کے لیے علیحدہ افسران تعینات کیے جائیں اور اے وی ایل سی کو جدید آلات اور افرادی قوت فراہم کی جائے تاکہ کارکردگی میں بہتری آئے۔
آئی جی سندھ نے ہدایت کی کہ:
-
اے وی ایل سی کے عملے کو ایمرجنسی ڈیوٹی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔
-
چوری یا چھینی گئی گاڑی کی برآمدگی پر عملے کو کیش انعام دیا جائے جبکہ لاپروائی کے مرتکب اہلکاروں سے جواب طلبی کی جائے۔
-
ایس ایچ اوز جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی وڈیوز اے سی ایل سی کو فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔
-
کراچی میں اے وی ایل سی کو درکار نفری ایڈیشنل آئی جی کراچی جبکہ اندرون سندھ میں متعلقہ ایس ایس پیز فراہم کریں گے۔
آئی جی سندھ نے مزید کہا کہ افرادی قوت کی فراہمی کے لیے طویل، وسط اور قلیل مدتی منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے، جس کے تحت نئے بھرتی شدہ اے ایس آئیز کو تفتیشی یونٹس میں تعینات کیا جائے گا۔ آئندہ اجلاس میں فیصلوں پر عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
