لاہور / ملتان: پنجاب کے دریاؤں میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق دریائے چناب پر تریموں ہیڈ ورکس، دریائے راوی پر بلوکی اور سدھنائی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ تریموں بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج 4 لاکھ 85 ہزار 693 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
یومِ دفاع کے موقع پر ضلع وسطی میں شاندار واک، طلبہ و افسران کی بھرپور شرکت
پی ڈی ایم اے کے اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ ہیڈ تریموں سے نکلنے والا سیلابی ریلا آئندہ 48 گھنٹے میں ملتان پہنچے گا۔ ڈپٹی کمشنر ملتان نے خبردار کیا کہ دریائی علاقوں کے مکین گھروں کو واپس نہ جائیں کیونکہ چار لاکھ 14 ہزار کیوسک سے زائد کا نیا ریلا ملتان کے بندوں سے ٹکرائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پانی کی شدت میں اضافہ ہوا تو شگاف ڈالنے کا فیصلہ دوبارہ زیر غور آئے گا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے مزید بتایا کہ دریائے ستلج پر گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب جاری ہے، جبکہ 7 سے 9 ستمبر کے دوران ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا خطرہ ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ دریاؤں کے اطراف جانے، ماہی گیری اور دیگر سرگرمیوں سے گریز کریں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔
