کراچی: (ڈیسک رپورٹ) سیلاب کی تباہ کاریوں کے اثرات کراچی کی مارکیٹوں اور بازاروں تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، جہاں سبزیوں اور آٹے کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت نرخ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنائے ورنہ مصنوعی مہنگائی کا یہ طوفان جینا دوبھر کر دے گا۔
چین کی سب سے بڑی فوجی پریڈ، شی جن پنگ کا امن و جنگ کے درمیان فیصلہ کن انتخاب کا انتباہ
مارکیٹ ذرائع کے مطابق ٹماٹر جو حال ہی میں 60 روپے فی کلو فروخت ہو رہا تھا، اب 200 روپے فی کلو تک جا پہنچا ہے۔ اسی طرح روزمرہ استعمال کی سبزیاں تورئی اور ٹنڈا بھی 200 سے 300 روپے فی کلو کے نرخ پر فروخت ہو رہی ہیں۔
شہریوں نے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں سیلاب ابھی پوری طرح پہنچا بھی نہیں ہے لیکن سبزیوں کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھایا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل ہی ملک بھر میں گندم کی قلت کی خبریں سامنے آنے کے بعد آٹے کی قیمتوں میں بھی بڑا اضافہ دیکھا گیا۔ 29 اگست کو پاکستان ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے شہری ملک میں سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔ شہر قائد میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2 ہزار 100 روپے تک فروخت ہوا، جب کہ حالیہ ہفتے کراچی، لاڑکانہ اور خضدار میں آٹے کی قیمت 300 روپے فی تھیلا تک بڑھی۔ حیدرآباد اور سکھر میں یہی اضافہ 280 روپے تک ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق پنجاب میں سیلاب سے فصلوں کو پہنچنے والے نقصان اور ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے سبزیوں، گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہوا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ شہری صارفین پر پڑ رہا ہے۔
