وفاقی حکومت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے فنکشنل رولز 2025 جاری کرتے ہوئے اسے غیر معمولی اختیارات فراہم کر دیے ہیں۔ نئے قانون کے تحت سائبر کرائمز کو براہِ راست انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ (AMLA) میں شامل کیا گیا ہے۔
اتحاد ٹاؤن پولیس کی کارروائی، گلشن غازی قتل کیس کا اہم ملزم گرفتار
این سی سی آئی اے کو بینک اکاؤنٹس اور جائیدادیں منجمد کرنے کا اختیار حاصل ہوگیا ہے جبکہ پہلی بار کسی تحقیقاتی ادارے کو براہِ راست عدالت میں استغاثہ دائر کرنے کا اختیار بھی تفویض کیا گیا ہے۔
ترمیم شدہ قوانین کے مطابق سوشل میڈیا پر جھوٹی یا گمراہ کن معلومات پھیلانا جرم تصور ہوگا اور اس سے حاصل شدہ آمدنی کو مالی جرم قرار دیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ قانون سوشل میڈیا صارفین پر کڑی نگرانی کا باعث بنے گا۔
این سی سی آئی اے میں نئے یونٹس بھی قائم کیے گئے ہیں جن میں احتساب، ڈیجیٹل فرانزک، میڈیا، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور او ایس آئی این ٹی شامل ہیں۔
قانون میں چائلڈ پورنوگرافی، اغوا، شناختی چوری، ڈیجیٹل فراڈ اور غیر قانونی سمز کے معاملات کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ نیا فریم ورک سائبر کرائمز کے خلاف تحقیقات اور احتساب کو مزید مؤثر اور مضبوط بنائے گا، جبکہ ماہرین کے مطابق یہ قانون ریاست کو ڈیجیٹل دنیا پر بے مثال کنٹرول فراہم کرے گا۔
