ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی جانب سے کسی بھی صحافی کو انٹرویو نہیں دیا گیا، برسلز کے ایونٹ میں صرف تصویر بنی تھی، صحافی سہیل وڑائچ کا دعویٰ محض ذاتی تشہیر اور مفاد کی کوشش ہے۔
چینی و امریکی کمپنیوں کی بڑھتی دلچسپی، پاکستان میں سیٹلائیٹ انٹرنیٹ کی دوڑ تیز
میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ برسلز تقریب میں نہ پی ٹی آئی کا ذکر ہوا، نہ ہی معافی کا، اس حوالے سے سہیل وڑائچ نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا جو افسوس ناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی کے واقعات کے ذمہ داروں اور سہولت کاروں کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے کہا کہ بھارت کا خیال تھا کہ دہشتگردانہ پراکسیوں اور سہولت کاروں کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرے گا اور فوج کو بدنام کر دے گا مگر پاک فوج نے بھرپور جواب دے کر دشمن کے عزائم ناکام بنا دیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک جانب بھارت اور دوسری جانب دہشتگرد گروہوں کے حملوں کا مقابلہ کیا۔ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر مکمل عمل درآمد نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے روزانہ اپنی قربانیوں سے اس خلا کو پر کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا تھا کہ برسلز میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے ان سے گفتگو میں کہا کہ سیاسی مصالحت صرف سچے دل سے معافی مانگنے سے ممکن ہے، تاہم پاک فوج نے اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔
