متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کورنگی، زمان ٹاؤن میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کراچی میں بڑھتی ہوئی بدامنی، پولیس کی مبینہ بھتہ خوری، اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی۔
کراچی میں آٹا سب سے مہنگا 20 کلو کا تھیلا 1800 روپے تک پہنچ گیا
انہوں نے کہا کہ کورنگی ڈسٹرکٹ میں صرف گزشتہ ماہ کے دوران درجنوں رہزنی کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں، جن میں دن دہاڑے معصوم بچے بھی اپنی جان سے گئے، مگر حکومت سندھ اور پولیس افسران نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے الزام لگایا کہ ہزاروں پولیس اہلکار اندرون سندھ سے لا کر کراچی کی سڑکوں پر تعینات کیے گئے ہیں، جو شہریوں سے نمبر پلیٹس کے نام پر بھتہ وصول کر رہے ہیں۔
انہوں نے کراچی کے تعلیمی نظام پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ "اندرون سندھ کے بچوں کو زبردستی پاس کروا کر ان کا مستقبل تباہ کیا جا رہا ہے، وہی بچے جو انٹر بورڈ میں ٹاپ کر رہے تھے، این ای ڈی یونیورسٹی کے امتحانات میں فیل ہو رہے ہیں۔”
ڈاکٹر فاروق ستار نے زور دے کر کہا کہ کراچی کو سوتیلی ماں کا سلوک دیا جا رہا ہے۔ اگر صوبائی حکومت کا یہی رویہ جاری رہا تو "ہمیں بتا دیں، ہم اپنا علیحدہ نظام بنانے پر مجبور ہو جائیں گے”۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم سندھ سے الگ ہونے کا مطالبہ نہیں کرتی، مگر عوام کو مسلسل اس جانب دھکیلا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "پیپلز پارٹی کے وزراء خود اعتراف کرتے ہیں کہ کراچی ان کی ذمہ داری نہیں، اور میئر کہتا ہے کہ اندرون شہر اس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔”
انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ کو چیلنج دیا کہ وہ ان کے ہمراہ شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کریں اور خود مشاہدہ کریں کہ عوام کس کرب میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق ستار نے زمان ٹاؤن میں حالیہ ڈکیتی کے دوران شہید ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے اظہارِ تعزیت بھی کیا۔
اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے منتخب اراکین اسمبلی، مقامی تنظیمی عہدیداران اور کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی۔



