وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے معروف بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی "موڈیز” کی ٹیم سے ورچوئل اجلاس میں شرکت کی، جس میں پاکستان کی حالیہ معاشی صورت حال، جاری اصلاحات اور استحکام کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
Tuesday, 15th July 2025
یہ اہم اجلاس آج منعقد ہوا، جس میں وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
وزیر خزانہ نے موڈیز کی ٹیم کو آگاہ کیا کہ پاکستان نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت حالیہ جائزہ کامیابی سے مکمل کیا، جس کے نتیجے میں دوسری قسط جاری کی گئی اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلیٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) میں بھی پیش رفت ممکن ہوئی ہے۔
انہوں نے معاشی اشاریوں میں بہتری پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مہنگائی میں کمی، پالیسی ریٹ میں نرمی، روپے کی قدر میں استحکام، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس اور ترسیلات زر میں اضافہ جیسے مثبت عوامل سامنے آئے ہیں، جب کہ جون کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔
مزید برآں، انہوں نے بجٹ میں شامل مالیاتی اقدامات، تجارتی اصلاحات، برآمدات پر مبنی ترقیاتی پالیسی اور حکومتی کفایت شعاری کے اہداف سے بھی موڈیز کو آگاہ کیا۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ ترجیحی تجارتی رعایتوں پر مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، جب کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ سے ایک ارب ڈالر کا کمرشل فنانسنگ معاہدہ بھی طے کیا ہے۔ اس کے علاوہ پانڈا بانڈ کے اجرا اور یوروبانڈ مارکیٹ میں دوبارہ داخلے کی تیاری بھی جاری ہے۔
ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بہتر بنانے کے لیے وزیر خزانہ نے ڈیجیٹل اصلاحات، ٹیکنالوجی کے استعمال اور سخت نگرانی پر زور دیا اور بتایا کہ وزیر اعظم ان اصلاحات کی ذاتی طور پر نگرانی کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا ہدف آئندہ دو برسوں میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح کو 13 تا 13.5 فیصد تک لانا ہے۔ موڈیز ٹیم کی جانب سے پوچھے گئے تمام سوالات کے تسلی بخش جوابات دیے گئے اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومتی اصلاحاتی اقدامات، نجکاری اور ادارہ جاتی بہتری کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ نے زور دیا کہ پاکستان پائیدار ترقی، بین الاقوامی اعتماد کی بحالی اور عالمی مالیاتی منڈیوں سے مربوط ہونے کے عمل میں سنجیدگی سے آگے بڑھ رہا ہے۔
