کراچی (اسٹاف رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اور کل جماعتی حریت کانفرنس جموں و کشمیر کے زیر اہتمام شہید برہان مظفر وانی کی نویں برسی پر ’’شہید کی جو موت ہے، قوم کی حیات ہے‘‘ کے عنوان سے سیمینار حسینہ معین ہال میں منعقد ہوا۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی نیول چیف سے ملاقات، حالیہ کشیدگی میں پاک بحریہ کے کردار کی تعریف
تقریب میں مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر بلدیات سندھ سعید غنی سمیت مختلف سیاسی، سماجی و کشمیری رہنماؤں نے شرکت کی۔ نظامت کے فرائض بشیر سدوزئی نے انجام دیے۔
اس موقع پر سعید غنی نے کہا کہ برہان مظفر وانی بہادری کی علامت تھے، نوجوان نسل کو ان کی قربانی سے آگاہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے خلاف پاک فوج، فضائیہ اور بحریہ کا کردار قابلِ ستائش ہے، ہمیں اپنے ملک پر فخر ہے۔
حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی نے کہا کہ برہان وانی کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی، دشمن ایک نہیں بلکہ کئی ہیں، مگر کامیابی صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
سید یوسف نسیم نے کہا کہ کشمیر کا ہر بچہ آزادی کا سپاہی ہے، ہم اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کشمیر کو آزادی نہ مل جائے۔
ایڈووکیٹ پرویز شاہ نے کہا کہ برہان وانی نے صرف ایک موبائل فون سے تحریک آزادی کو نئی زندگی دی، آج ہر کشمیری نوجوان برہان بننے کا خواب دیکھتا ہے۔
خاتون کشمیری رہنما سردار ام کلثوم نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی ضامن ہیں، مگر عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔
دیگر مقررین سردار نزاکت، اقبال کشمیری، سردار صغیر، ندیم اعوان، طلحہ احمد خان اور محمد ارشد شر بلوچ نے بھی خطاب کرتے ہوئے شہید برہان وانی کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی قربانی تحریک آزادی کشمیر کا روشن باب ہے۔

