کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے قدیم علاقے لیاری بغدادی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک پانچ منزلہ رہائشی عمارت زمین بوس ہوگئی، جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق اب تک ملبے سے 6 زخمیوں کو نکالا گیا ہے جن میں 3 خواتین بھی شامل ہیں۔ ایک زخمی خاتون کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ تمام زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا۔
ایدھی اور دیگر ریسکیو اداروں کے ساتھ پولیس اور رینجرز کی ٹیمیں بھی موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ علاقہ مکینوں کی مدد سے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کی بھرپور کوششیں جاری ہیں۔
ریسکیو ترجمان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملبے کے نیچے 20 سے 25 افراد دبے ہو سکتے ہیں۔ عمارت میں چھ خاندان رہائش پذیر تھے۔ واقعے کے بعد ملحقہ 2 اور 7 منزلہ عمارتوں کو خالی کروا لیا گیا ہے۔
تنگ گلیوں کے باعث بھاری مشینری کو پہنچنے میں دشواری ہو رہی ہے، تاہم ریسکیو ٹیمیں ہنگامی بنیادوں پر کام کر رہی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق گرنے والی عمارت کی حالت پہلے ہی خستہ تھی اور متعدد بار شکایات کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔
واقعے پر وزیر بلدیات سندھ سعید غنی، گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ریسکیو آپریشن تیز کرنے، رکاوٹیں ہٹانے اور زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات دینے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔
وزیر بلدیات نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران کو معطل کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے خستہ حال عمارتوں کی فوری فہرست طلب کرتے ہوئے عملی اقدامات کی ہدایت کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
