کراچی: نیو کراچی ٹاؤن کے چیئرمین محمد یوسف نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ کی تفصیلات سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ٹاؤن کا سالانہ بجٹ پانچ ارب انسٹھ کروڑ آٹھ لاکھ پندرہ ہزار سات سو باون روپے کی بھاری رقم سے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے دو ارب اٹھاسی کروڑ پانچ لاکھ تین سو دس روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے، جو بنیادی بلدیاتی سہولیات کی فراہمی اور شہری مسائل کے فوری حل کے لیے استعمال کی جائے گی۔
چیئرمین کے مطابق اس بجٹ سے نیو کراچی میں پیور بلاک کی تنصیب، صاف پانی کی فراہمی، سرکاری اسکولوں کی تزئین و آرائش، اسکول فرنیچر کی فراہمی، اسکولوں کی تعمیر نو، ڈسپینسریوں کی بہتری، پارکس کی بحالی اور تفریحی مقامات کی تزئین شامل ہے۔
محمد یوسف نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے OZT فنڈز ناکافی ہیں جو بیشتر ملازمین کی تنخواہوں میں خرچ ہو جاتے ہیں، جس سے ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا کہ نیو کراچی کو دیے جانے والے فنڈز میں اضافہ کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال 2024-25 میں نیو کراچی ٹاؤن کا بجٹ سرپلس رہا اور ٹاؤن انتظامیہ مسلسل مقامی آمدنی میں اضافہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مقامی ٹیکسز میں اضافے اور نئے ذرائع آمدن تلاش کرنے پر بھی کام جاری ہے تاکہ ترقیاتی کاموں کا تسلسل قائم رکھا جا سکے۔
چیئرمین نے مزید بتایا کہ گزشتہ سال 20,000 اسکوائر فٹ پیور بلاک نصب کیے گئے، اور ان علاقوں میں جہاں برسوں سے پانی دستیاب نہ تھا، نئی پائپ لائنز کی تنصیب اور مرمت کر کے فراہمی یقینی بنائی گئی۔
سرکاری اسکولوں میں فرنیچر کی کمی اور عمارتوں کی خستہ حالی جیسے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا گیا، تاکہ طلبہ کو بہتر تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ سابقہ واجبات کی مکمل ادائیگی ممکن نہ تھی، لیکن ریٹائر ہونے والے ملازمین کو لیو ان کیشمنٹ اور دیگر واجبات کی مد میں کروڑوں روپے ادا کیے گئے اور موجودہ انتظامیہ کے دور میں ریٹائر ہونے والے ملازمین کو مکمل رقم ادا کی گئی ہے۔
آخر میں انہوں نے ایک بار پھر حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ نیو کراچی ٹاؤن کے لیے OZT فنڈز میں اضافہ کیا جائے اور خصوصی گرانٹ جاری کی جائے تاکہ بڑھتی ہوئی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور عوامی ترقیاتی سفر جاری رکھا جا سکے۔
