کراچی: میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے وزیر بلدیات سندھ سعید غنی کو ایک اہم خط لکھا ہے، جس میں شہر کی سڑکوں کی خستہ حالی اور ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز (ٹی ایم سیز) کی عدم توجہی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت کا بڑا فیصلہ: یکم جولائی سے بجلی کے بلوں میں الیکٹرک ڈیوٹی ختم
مرتضیٰ وہاب نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ حالیہ برسوں میں کراچی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے تحت متعدد سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی گئی تھی۔ تاہم، یوٹیلیٹی سروسز کی جانب سے کی گئی کھدائی کے بعد ان سڑکوں کی بحالی نہیں ہو سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی مالی معاونت سے کے ایم سی اور سابقہ ڈی ایم سیز نے سڑکوں کی مرمت کی کوشش کی، لیکن حالیہ صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اہم سڑکیں اور گلیاں مختلف یوٹیلیٹی اداروں کی جانب سے کھودی گئیں، اور اس کھدائی کے بدلے میں روڈ کٹنگ چارجز ٹی ایم سیز کو ادا کیے گئے۔
میئر کراچی نے خط میں کہا کہ اگرچہ یہ رقم ٹی ایم سیز کو موصول ہوئی، تاہم بیشتر علاقوں میں سڑکوں کی مرمت نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، خاص طور پر حالیہ بارشوں کے بعد سڑکوں کی حالت مزید ابتر ہو گئی ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے وزیراعلیٰ سندھ سے ہونے والی متعدد ملاقاتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بارہا مطالبہ کیا گیا کہ روڈ کٹنگ کی مد میں حاصل ہونے والی رقوم کو صرف اور صرف سڑکوں کی بحالی پر خرچ کیا جائے۔
انہوں نے شکایت کی کہ بعض ٹاؤنز نہ صرف اپنی حدود میں بلکہ کے ایم سی کی حدود میں آنے والی سڑکوں کے بھی چارجز وصول کر رہے ہیں، جو غیر قانونی عمل ہے۔
میئر کراچی نے وزیر بلدیات سے اپیل کی ہے کہ تمام ٹی ایم سیز کو فوری ہدایات جاری کی جائیں تاکہ سڑکوں کی مرمت کو یقینی بنایا جا سکے اور شہریوں کی مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو۔
