آرٹس کونسل کراچی میں معروف مصورہ مہر افروز کو خراجِ تحسین، فائن آرٹ کمیٹی کی شاندار تقریب

کراچی (اسٹاف رپورٹر) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی فائن آرٹ کمیٹی کے زیر اہتمام معروف مصورہ مہر افروز کو ان کی فنی خدمات اور تخلیقی میراث کے اعتراف میں خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے حسینہ معین ہال میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

موٹرویز اور ہائی ویز پر جرائم کی روک تھام اور وہیکل فٹنس کے لیے سندھ پولیس اور موٹروے پولیس کی مشترکہ حکمت عملی
تقریب کی نظامت عامرہ علی نے کی، جبکہ فائن آرٹ کمیٹی کے چیئرمین فرخ تنویر شہاب، زہرہ حسین، نورجہاں بلگرامی، نصرت خواجہ اور نیلوفر فرخ نے خطاب کیا۔ اس موقع پر سلمان آصف، راحت نوید اور سلیمہ ہاشمی نے ویڈیو پیغامات میں مہر افروز کی تخلیقی سوچ اور فکری گہرائی کو سراہا۔

نیلوفر فرخ نے کہا کہ مہر افروز ایک عالمی سطح پر پہچانی جانے والی فنکارہ ہیں، جن کا کیریئر آرٹس کونسل کراچی سے شروع ہوا اور آج وہ ایک زندہ روایت بن چکی ہیں۔
زہرہ حسین نے کہا کہ مہر اردو اور فارسی ادب سے بخوبی واقف ہیں، اور ان کی فن پاروں میں سماجی، طبقاتی اور مذہبی موضوعات کی عکاسی نمایاں ہے۔
نورجہاں بلگرامی نے کہا کہ مہر افروز کے ساتھ ان کا رشتہ پانچ دہائیوں پر محیط ہے اور انہوں نے ہمیشہ اپنے فن میں غیر معمولی سنجیدگی اور لگن دکھائی ہے۔

ویڈیو پیغام میں سلیمہ ہاشمی نے کہا کہ مہر ایک کمیٹڈ آرٹسٹ ہیں، ان کے فن میں جذبہ، درد، گہرائی اور انسانیت جھلکتی ہے۔ سلمان آصف نے کہا کہ مہر افروز کی مصوری میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جو ایک بڑے فنکار کو ممتاز کرتے ہیں۔

آخر میں فرخ تنویر شہاب نے مہر افروز کو پھول پیش کیے اور ان کی خدمات پر شکریہ ادا کیا۔
مہر افروز نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپنی فکری وابستگی، اخلاقی اصولوں اور فنی جدوجہد کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسان صرف لینے کے لیے نہیں، بلکہ دینے کے لیے بھی پیدا ہوا ہے۔ "اگر آپ حق کے ساتھ نہیں تو آپ مسجد میں ہوں یا شراب خانے میں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
ان کا کہنا تھا کہ تقویٰ اور اخلاقیات انسان کو مجسمے سے مکمل انسان بناتے ہیں۔

One thought on “آرٹس کونسل کراچی میں معروف مصورہ مہر افروز کو خراجِ تحسین، فائن آرٹ کمیٹی کی شاندار تقریب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!