کراچی: پاکستان سنی تحریک نے موجودہ حکومت کی جانب سے کم عمری کی شادی کو جرم قرار دینے والے مجوزہ بل کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
ریڑھی گوٹھ میں منشیات کے خلاف پولیس کا گرینڈ آپریشن، نوجوان نسل کی حفاظت کے لیے بڑا قدم
چیئرمین پاکستان سنی تحریک انجینیئر محمد ثروت اعجاز قادری نے اپنے بیان میں کہا کہ اسلام میں بلوغت کے بعد نکاح جائز ہے اور شریعت نے نکاح کے لیے کسی خاص عمر کی پابندی نہیں لگائی۔ ان کا کہنا تھا کہ نکاح ایک مقدس فریضہ ہے جو انسان کو برائیوں سے محفوظ رکھتا ہے، اور حکومت کا نکاح کے لیے عمر کی حد مقرر کرنا اسلامی اصولوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے، جہاں اسلامی قوانین کا نفاذ اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ اگر کسی قانون میں شریعت سے انحراف کیا جائے گا تو پاکستان سنی تحریک اس کی پرزور مخالفت کرے گی۔
مرکزی صدر علامہ بلال عباس قادری نے بھی کہا کہ اسلام میں لڑکے یا لڑکی کے لیے شادی کی کوئی مقررہ عمر نہیں، صرف بلوغت ہی شرط ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ یہ بل فوری طور پر واپس لے اور آئندہ اسلامی قوانین میں مداخلت سے گریز کرے۔
سیکرٹری جنرل علامہ بلال سلیم قادری کا کہنا تھا کہ اگر والدین کم عمری میں بچوں کا نکاح کرتے ہیں تو وہ اسلامی اصولوں کے مطابق جائز ہے۔ پاکستان سنی تحریک نے واضح کیا کہ وہ کسی ایسے قانون کو تسلیم نہیں کرے گی جو اسلامی شریعت کے خلاف ہو۔
