کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بلدیہ ٹاؤن میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی (ایس آئی سی وی ڈی) کے نئے اسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسپتال اصل میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو افتتاح کرنا تھا، لیکن وہ اس وقت بھارت کی جارحیت کے خلاف پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ چیئرمین نے مجھے ہدایت کی کہ میں اسپتال کا افتتاح کروں۔
کراچی کے مختلف علاقوں سے چوری شدہ دو کاریں برآمد، اے وی ایل سی پولیس کی بروقت کارروائی
مراد علی شاہ نے کہا کہ کے ایم سی نے کئی سال پہلے سندھ حکومت کی فنڈنگ سے ایک اسپتال کا آغاز کیا تھا، مگر وہ مکمل نہ ہو سکا۔ بعد ازاں ایس آئی سی وی ڈی کو شامل کر کے اس منصوبے کو 8 ماہ سے بھی کم عرصے میں مکمل کیا گیا۔ اب یہاں عالمی معیار کی طبی سہولیات میسر ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال میں پہلا مریض ایک 25-26 سالہ نوجوان تھا، جبکہ دو ایسے مریض بھی آئے جن کا ماضی میں این آئی سی وی ڈی میں علاج ہو چکا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اسپتال بلوچستان سے بھی مریضوں کو علاج کی سہولت دے رہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری صحت کی سہولیات دوسرے صوبوں کے عوام بھی استعمال کر رہے ہیں۔
مراد علی شاہ نے ایس آئی سی وی ڈی کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ 2011 تک یہ ادارہ وفاق کے زیرِ انتظام تھا، مگر 18ویں ترمیم کے بعد وفاق نے اسے سندھ حکومت کے حوالے کر دیا اور اچانک فنڈز روک دیے۔ اُس وقت میں وزیر خزانہ تھا، میں نے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ سے بات کر کے فنڈز بجٹ میں شامل کیے۔ بعد میں عدالت نے اسپتال کو وفاق کے حوالے کرنے کا کہا، مگر تب تک ہم اس میں کثیر سرمایہ کاری کر چکے تھے۔
