لیاری سے کالعدم تنظیم کا دہشت گرد گرفتار، خودکش بمبار کی ذہن سازی اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا

کراچی: پاکستان رینجرز (سندھ) اور سندھ پولیس نے انٹیلی جنس معلومات پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے لیاری سے کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے خطرناک دہشت گرد درویش عرف ساگر کو گرفتار کرلیا ہے۔

کراچی: پولیس مقابلے میں شہید کانسٹیبل محمد فاروق کی نمازِ جنازہ ادا، آئی جی سندھ کی ورثاء سے تعزیت

ترجمان رینجرز کے مطابق گرفتار ملزم درویش عرف ساگر کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، ایمونیشن اور دستی بم برآمد کیے گئے ہیں۔ ابتدائی تفتیش میں ملزم نے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔

ملزم کا تعلق محلہ سرگواد، لیاری سے ہے اور اس نے 2015 میں بی ایس او آزاد میں شمولیت اختیار کی تھی، جبکہ 2018 میں کالعدم بی ایل اے کے کارندے فاروق بلوچ کے گروہ کا حصہ بنا۔ ملزم نے بی ایل اے اور بی ایل ایف کے کارندوں کو سہولت فراہم کرنے، ان کے علاج، رہائش اور محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا۔

ملزم نے تفتیش کے دوران اعتراف کیا کہ وہ بلوچ مسنگ پرسنز کی سرگرم رکن حیام بلوچ کا فرنٹ مین تھا اور خودکش حملہ آور ماہل بلوچ کی ذہن سازی اور سہولت کاری میں بھی شامل رہا۔

درویش عرف ساگر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ اور اس کے قریبی ساتھی — فاروق بلوچ، مجید عرف بابا، فراز عرف گنج، ناصر ذکری، شہزاد ذکری — بلوچستان اور کراچی میں سیکیورٹی فورسز پر متعدد دہشت گرد حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

ملزم کے دو ساتھی پرویز ذکری اور ظفر عرف ماما جعفر ایکسپریس پر حملے کے دوران سیکیورٹی فورسز سے مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

ملزم حوالہ ہنڈی کے ذریعے ملنے والی رقوم کو مختلف کالعدم بلوچ تنظیموں میں تقسیم کرنے کا کام بھی کرتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف پروپیگنڈے اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف نفرت انگیزی میں بھی ملوث رہا ہے۔

گرفتار دہشت گرد کو برآمد شدہ اسلحہ سمیت مزید قانونی کارروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں فوری اطلاع قریبی رینجرز چیک پوسٹ، ہیلپ لائن 1101 یا واٹس ایپ نمبر 0347-9001111 پر دیں۔ اطلاع دینے والے کا نام مکمل رازداری میں رکھا جائے گا۔

13 / 100 SEO Score

One thought on “لیاری سے کالعدم تنظیم کا دہشت گرد گرفتار، خودکش بمبار کی ذہن سازی اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی میں ملوث تھا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!