کراچی: ضلع وسطی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی جناب طحہ سلیم نے ڈسٹرکٹ ڈی مولیشن کمیٹی کا ایک اہم اجلاس طلب کیا، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں اور سرکاری اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔
انفورسمنٹ کلکٹریٹ کی بڑی کارروائی، 14 ہزار کلو گرام گدھوں کی کھال بیرون ملک اسمگل کرنے کی کوشش ناکام
اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی ضلع وسطی کے صدر سردار خان، شزاد خان، اسد حنیف، فیضان روات، ایم کیو ایم پاکستان کے ایم پی ایز عادل عسکری اور معاذ محبوب، جماعت اسلامی کے نمائندے، ٹاؤن چیئرمینز، ایس ایس پی سینٹرل ذیشان شفیق، ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر عبدل سجاد، ضلع ڈائریکٹر محمد ضیاء، نواب منریجو، کمال خان، تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈی ایس پیز نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر اور ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر نے غیر قانونی تعمیرات اور ڈیمولیشن آپریشن سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ اجلاس میں محلہ کمیٹیوں کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ مقامی سطح پر غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی اور کارروائی کو مؤثر بنایا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر طحہ سلیم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
“جو غیر قانونی عمارتیں گرائی جا چکی ہیں، ان کی دوبارہ تعمیر ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔ لیاقت آباد کا انفرااسٹرکچر غیر قانونی پورشنز نے بری طرح متاثر کیا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ:
“ایس بی سی اے کے بعض افسران پہلے سفارشوں سے پوسٹنگ لیتے تھے، اب وہی افسران سفارش کر کے تبادلے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو ادارے کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔”
ایس ایس پی ضلع وسطی ذیشان شفیق نے اجلاس میں بتایا کہ:
“دو ایس ایچ اوز کو آپریشن کے دوران ہٹا دیا گیا ہے اور تمام ڈی ایس پیز کو سخت وارننگ دی گئی ہے کہ آئندہ کوئی غیر قانونی تعمیر برداشت نہیں کی جائے گی، ورنہ افسران کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔”
ایم کیو ایم کے ایم پی اے عادل عسکری نے اجلاس میں ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کی کوششوں کو قابل تحسین قرار دیا، جبکہ ایم پی اے معاذ محبوب نے دعویٰ کیا کہ:
“ضلع وسطی میں گزشتہ چند سالوں کے دوران پانچ ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے، جو ایس بی سی اے کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔”
پاکستان پیپلز پارٹی ضلع وسطی کے صدر سردار خان نے کہا کہ:
“ڈاکٹر عاصم حسین نے اس آپریشن کا آغاز کروایا تھا، اور پارٹی اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی کی مکمل حمایت جاری رکھے گی۔”
اجلاس کے فوکل پرسن توقیر احمد تھے، جو ڈپٹی کمشنر سینٹرل کی نمائندگی کر رہے تھے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں غیر قانونی تعمیرات شہری انفرااسٹرکچر کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔ ایسے میں محلہ کمیٹیوں کی تشکیل اور سخت نگرانی ایک مثبت قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ اس اجلاس سے واضح ہوتا ہے کہ اب ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ ادارے مشترکہ طور پر ان غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف متحرک ہو چکے ہیں۔

