نگراں وزیر اعلی سندھ اور ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سرجانی ٹاؤن کو تباہی سے بچائیں
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر آصف رضوی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقار حیدر و دیگر افسران غیر قانونی تعمیرات کے سپرست بن بیٹھے کروڑوں کی انکم شروع
سرجانی علاقوں میں ہونے والی غیر قانونی تعمیرات میں پلاٹ نمبر ایس آر 13، ایس آر 48 سیکٹر فائیو سی، پلاٹ نمبر SR-22 + 23 سیکٹر سیون اے سمیت دیگر شامل ہیں
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر آصف رضوی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقار حیدر و دیگر افسران جو کہ پہلے مرحلے میں پیسوں سے خریدنے کی کوشش کرتے ہیں اور نا ماننے پر دھمکیاں دینے سے گریزاں نہیں
کراچی(رپورٹ/فراز حسین) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر آصف رضوی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقار حیدر سمیت دیگر افسران غیرقانونی تعمیرات کے سپرست بن گئے۔ سرجانی ٹاؤن میں ہونے والی غیر قانونی تعمیرات میں پلاٹ نمبر ایس آر 13، پلاٹ نمبر ایس آر 48 سیکٹر فائیو سی اور پلاٹ نمبر ایس آر 22+23 سیکٹر سیون اے و دیگر شامل، تفصیلات کے مطابق پلاٹ نمبر ایس آر 13، پلاٹ نمبر ایس آر 48 سیکٹر فائیو سی اور پلاٹ نمبر ایس آر 22+23 سیکٹرسیون اے، پلاٹ نمبر ایس آر 17+18+19 اور پلاٹ نمبر ایس آر 21 سیکٹر فور اے، اسی طرح پلاٹ نمبر ایس آر 101 سیکٹر ٹو، پلاٹ نمبر ایس آر 27 سیکٹر فائیو ڈی سمیت دیگر شامل ہیں
نگراں وزیر اعلی سندھ (ر) جسٹس مقبول باقر، وزیر بلدیات مبین جمانی اور ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اسحاق کھوڑو سے عوام کی التجا ہے کہ سرجانی کو تباہی سے بچائیں
مصدقہ علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ (پٹہ سسٹم) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر آصف رضوی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقار حیدر و دیگر افسران کے ہاتھوں میں ہے جو کہ پہلے مرحلے میں پیسوں سے خریدنے کی کوشش کرتا ہے اور نا ماننے پر دھمکیاں دینے سے گریزاں نہیں۔ متعدد بار سرجانی ٹاؤن کے رہائشی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف اپنی شکایات سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی لے کر گئے مگر متعلقہ افسران کی جانب سے بہت ہی غیر اخلاقی اور ان پروفیشنل رویہ اختیار کیا گیا اور پھر اسی دوران یہ بھی علم ہوا کے (پٹہ کا سسٹم) ڈائریکٹر آصف رضوی اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر وقار حیدر کے پاس ہے جو کہ پہلے مرحلے میں پیسوں سے خریدنے کی کوشش کرتا ہے اور نا ماننے پر مختلف اقسام کی دھمکیاں بھی لگاتا ہے
اہلیان سرجانی ٹاؤن کی تمام اعلی حکام سے گزارش ہے کہ ڈائریکٹر سرجانی ٹاؤن سمیت تمام متعلقہ افسران کے خلاف معطلی سمیت دیگر محکمہجاتی کاروائی عمل میں لائی جائے
