ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کا ارمغان کے والد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، غیر قانونی سرگرمیوں پر تشویش

کراچی: ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے رہائشیوں نے ڈی ایچ اے رولز کی خلاف ورزی پر ارمغان کے والد کامران اصغر قریشی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو خط ارسال کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ حالیہ واقعات کے سبب علاقے میں سیکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں، اور ارمغان کے زیرِ استعمال بنگلے کے اصل مالک کو سامنے لانے کے ساتھ ساتھ کامران اصغر قریشی سے بھی یہ بنگلہ خالی کروانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بھرپور کارروائی، کئی عمارتیں مسمار

رہائشیوں نے اپنے خط میں نشاندہی کی کہ ارمغان کے زیرِ استعمال بنگلے میں کئی بار ہوائی فائرنگ کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جس کے باعث علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ مزید یہ کہ 2024 کے دوران اس بنگلے میں غیر قانونی طور پر شیروں کو رکھا گیا تھا۔

خط میں الزام لگایا گیا کہ ارمغان قریشی نے 100 سے زائد پرائیویٹ سیکیورٹی گارڈز تعینات کر رکھے تھے اور ان کے ذریعے خواتین اور گھریلو ملازمین کو ہراساں کرنے میں ملوث تھا۔ 8 فروری کو اسی بنگلے میں ارمغان اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کی وجہ سے دیگر رہائشی گھروں میں محصور ہوگئے تھے۔

پولیس افسر کو چھوڑ دیا گیا
گذری پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) ندیم کو ارمغان کی مبینہ سہولت کاری کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا، تاہم تفتیش کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔ اے ایس آئی ندیم نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ارمغان کے خلاف مقدمات درج تھے، تاہم وہ ضمانت پر تھا اور پولیس کے ساتھ تفتیشی معاملات میں رابطے میں تھا۔

ایس ایس پی ون فائیو کی طلبی
دوسری جانب، ارمغان کے تشدد سے زخمی ہونے والی لڑکی زوما کے اسپتال پہنچنے کے بعد، ون فائیو کے پولیس افسر، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) ساؤتھ مہزور علی کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (ڈی آئی جی) جنوبی، اسد رضا کے مطابق، واقعے کے حوالے سے سب انسپکٹر نیاز کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔

57 / 100 SEO Score

One thought on “ڈی ایچ اے کے رہائشیوں کا ارمغان کے والد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، غیر قانونی سرگرمیوں پر تشویش

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!