سندھ حکومت کے انسداد بدعنوانی کے ادارے نے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے انجینئرنگ شعبے میں مبینہ غیر قانونی تعیناتیوں اور ترقیوں کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ انسداد بدعنوانی جنوبی کراچی کے سرکل آفیسر کی جانب سے چار افسران کو 27 جنوری 2025 کو ذاتی طور پر پیش ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔
پاک آرمی کا دیوسائی کے برفیلے میدان میں منفی ۲۴ ڈگری سینٹی گریٹ میں تربیتی مقابلہ
نوٹس میں محمد محب اللہ جعفری، کامران عمر، محمد سلیمان اللہ شرفات، اور معین (ڈپٹی سیکرٹری ایڈمن) کو تقرری، ترقی، اور بینک اسٹیٹمنٹ سمیت تمام ضروری دستاویزات پیش کرنے کا کہا گیا ہے۔ یہ کارروائی ای اینڈ اے سی ای رولز 1993 کے تحت کی جا رہی ہے، تاکہ بدعنوانی کے الزامات کی مکمل چھان بین کی جا سکے۔
یہ اقدام سندھ حکومت کی شفافیت اور سرکاری اداروں میں میرٹ کی بحالی کے عزم کا حصہ ہے۔ تحقیقات کے ذریعے کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں ممکنہ غیر قانونی سرگرمیوں کا پتہ لگا کر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔