صوبائی وزراء، مشیروں اور معاونین خاص نے سندھ کابینہ کے اجلاس میں شرکت کی، جس کی صدارت وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کی۔ اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور متعلقہ سیکریٹریز بھی موجود تھے۔
پولیس نے دوران گشت مشکوک ملزمان کو گرفتار کرلیا، اسٹریٹ کرائمز میں ملوث
کابینہ کی اہم فیصلے:
ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی: وزیراعلیٰ سندھ نے تمام وزراء کو صوبے بھر میں جاری ترقیاتی کاموں کی بھرپور نگرانی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں کا معیار بہترین ہونا چاہیے اور ان کی بر وقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔
کے فور پروجیکٹ پر واپڈا کی درخواست: سندھ کابینہ نے واپڈا کی درخواست پر کے فور پروجیکٹ کو ایس آر بی ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے کی منظوری دے دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ چونکہ یہ کراچی کا اہم منصوبہ ہے، اس لیے استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔ تاہم، سندھ حکومت نے ذیلی ٹھیکیدار کو استثنیٰ دینے کی اجازت نہیں دی۔
ایس بی آر اور ایف بی آر کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ: کابینہ نے ایس بی آر اور ایف بی آر کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم اور ڈپٹی وزیراعظم سے اس معاملے پر بات کی ہے اور دونوں اداروں کو آپس میں مصالحت کے لیے وقت مقرر کرنے کی ہدایت دی۔
ہیومن سیٹلمنٹ اتھارٹی کا بجٹ: سندھ کابینہ نے ہیومن سیٹلمنٹ اتھارٹی کے بجٹ کی منظوری دی، جس میں 740.157 ملین روپے کا بجٹ شامل ہے، جبکہ 2023-24 کے نظر ثانی شدہ بجٹ کی منظوری بھی دی گئی جو 398.057 ملین روپے پر مشتمل ہے۔
نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان فور: سندھ کابینہ نے وفاقی حکومت کے نیشنل فلڈ پروٹیکشن پلان فور پر تبادلہ خیال کیا، جس کی لاگت 824.5 ارب روپے ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کابینہ کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد فیصلہ کیا کہ وفاقی حکومت اس منصوبے کے لیے 50:50 فنڈز فراہم کرے گی، بجائے اس کے کہ وہ صرف 9.4 فیصد فنڈ دے۔
