تشکُّر نیوز رپورٹنگ،
شہبازشریف اپنے حلقے سے ہار چکے تھے، شہبازشریف وزیراعظم کے عہدے کیلئے اہل نہیں ہیں، سنی اتحاد کونسل کے وزیراعظم کے امیدوار عمر ایوب نے شہبازشریف کے کاغذات نامزدگی کے خلاف اعتراض جمع کرا دیا
اسلام آباد: پی ٹی آئی کے رہنماء اور سنی اتحاد کونسل کے وزیراعظم کیلئے نامزد امیدوار عمر ایوب خان نے کہا ہے کہ شہبازشریف کو فارم 47 میں ہیرا پھیری کے نتیجے میں حلقہ تحفے میں دیا گیا، شہبازشریف اپنے حلقے سے ہار چکے تھے، وزیراعظم کے عہدے کیلئے اہل نہیں ہیں۔ انہوں نے ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پی ٹی آئی کے رہنماء اور سنی اتحاد کونسل کے وزیراعظم کیلئے نامزد امیدوار عمر ایوب خان نے پاکستان مسلم لیگ ن کے وزیراعظم کے نامزد امیدوار شہبازشریف کے کاغذات نامزدگی کے خلاف اعتراض جمع کرا دیا ہے، عمر ایوب نے کاغذات نامزدگی کے خلاف اعتراض اسپیکر قومی اسمبلی کو جمع کروا دیا ہے۔
عمر ایوب نے کہا کہ شہبازشریف کو9 فروری کو فارم 47 میں ہیرا پھیری کے نتیجے میں حلقہ تحفے میں دیا گیا ہے، شہبازشریف فارم 45 کے مطابق اپنے حلقے سے ہار چکے تھے، شہبازشریف نے ایم این اے کی حیثیت سے جعلی حلف اٹھایا ہے، شہبازشریف وزیراعظم کے عہدے کیلئے اہل نہیں ہیں۔
اسی طرح 9مارچ کو ہونے والے صدارتی الیکشن کیلئے پیپلزپارٹی کے آصف علی زرداری اور سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بھی نامزد صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی کے صدارتی کاغذات نامزدگی جمع کروا دئیے گئے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے آصف زرداری اورمحمود خان اچکزئی کے کاغذات نامزدگی وصول کئے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے پارٹی رہنما فاروق ایچ نائیک نے سابق صدر آصف زرداری کے کاغذات اسلام آباد ہائیکورٹ میں پریزائیڈنگ افسر کے پاس جمع کرائے جبکہ سنی اتحاد کونسل نے صدارتی انتخاب کیلئے محمود خان اچکزئی کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروا دئیے جو پی ٹی آئی رہنما لطیف کھوسہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرائے۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے آصف زرداری اورمحمود خان اچکزئی کے کاغذات نامزدگی وصول کئے۔ سابق صدر آصف علی زرداری کی طرف سے دو کاغذات نامزدگی جمع کروائے گئے ۔ آصف زرداری کے تجویز کنندہ بلاول بھٹو زرداری ، سلیم مانڈی اور فاروق ایچ نائیک تائید کنند ہ تھے۔ سنی اتحاد کونسل کی جانب سے لطیف کھوسہ، عمر ایوب خان اور دیگر رہنماء صدارتی امیدوار محمود خان اچکزئی تجویز و تائید کنند ہ تھے۔ کاغذات نامزدگی وصول کرنے کے موقع پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق اور لطیف کھوسہ کے درمیان مکالمہ ہوا۔لطیف کھوسہ نے جسٹس عامر فاروق سے مکالمہ کیا کہ ہم سمجھ رہے تھے آپ چیمبر میں بلا کر چائے وغیرہ پلائیں گے۔
