...

لیاری میں 18 گھنٹے بجلی اور گیس کی بندش کے خلاف پیپلز پارٹی کا احتجاج

کراچی کے علاقے لیاری میں 18 گھنٹے کی غیر اعلانیہ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف پاکستان پیپلز پارٹی ضلع جنوبی نے احتجاجی ریلی نکالی۔

ریلی لیاری گیٹ، موسیٰ لین سے شروع ہوکر کراچی پریس کلب پہنچ کر اختتام پذیر ہوئی۔ اس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں، کارکنوں، خواتین اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

نبیل گبول کا غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا مطالبہ

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی سردار نبیل گبول نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کو سخت اقدامات کرنے چاہییں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ ختم کرانے کے لیے مؤثر کارروائی کی جائے۔

نبیل گبول کے مطابق ان کی کے الیکٹرک حکام سے بات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیاری کے رہائشی ماضی میں بھی بجلی کے بل ادا کرتے رہے ہیں اور اب بھی ادائیگیاں کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود انہیں بجلی فراہم نہیں کی جا رہی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں بجلی اور گیس کے مسائل حل کیے بغیر صرف خوبصورتی کے منصوبوں سے شہر میں حقیقی بہتری نہیں آسکتی۔

نبیل گبول نے مطالبہ کیا کہ موجودہ بجٹ میں لیاری کے لیے سولر سسٹم مختص کیا جائے اور علاقے میں سولر پارک قائم کیا جائے۔ انہوں نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے بھی آئندہ بجٹ میں اس منصوبے کے لیے رقم مختص کرنے کی اپیل کی۔

ان کا کہنا تھا کہ لیاری پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے اور یہاں کے عوام کو اندھیروں میں نہیں چھوڑا جا سکتا۔

بجلی کی بندش سے روزگار اور تعلیم متاثر

ریلی سے پیپلز پارٹی ضلع جنوبی کے صدر جاوید ناگوری، رکن سندھ اسمبلی یوسف بلوچ، عثمان ہنگورو، تیمور سیال، رکن سندھ اسمبلی شازیہ کریم، حبیب حسن اور فرید میمن نے بھی خطاب کیا۔

رہنماؤں نے کہا کہ بجلی کی طویل بندش نے شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ بجلی نہ ہونے سے پانی کی موٹریں نہیں چلتیں، جبکہ پانی کے ٹینکر خریدنا غریب خاندانوں کی استطاعت سے باہر ہوچکا ہے۔

ان کے مطابق بجلی کی عدم فراہمی سے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہو رہی ہے۔ بچے شام کے وقت اندھیرے میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ چھوٹے کارخانوں، ویلڈنگ، سلائی اور موٹر ورکشاپس سے وابستہ محنت کشوں کا روزگار بھی متاثر ہو رہا ہے۔ بجلی نہ ہونے سے وہ روزانہ کی مزدوری کمانے سے محروم رہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شدید گرمی میں بزرگ شہریوں اور دل و سانس کے امراض میں مبتلا مریضوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

گیس کی قلت پر بھی تشویش

پیپلز پارٹی رہنماؤں نے گیس کی عدم فراہمی پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شہریوں کو تینوں اوقات میں گیس کی قلت کا سامنا ہے۔

رہنماؤں کے مطابق مائیں گھنٹوں چولہے کے سامنے گیس آنے کا انتظار کرتی ہیں، جبکہ بچے بھوکے اسکول جانے پر مجبور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب خاندانوں کے لیے 3 سے 4 ہزار روپے کا ایل پی جی سلنڈر خریدنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔

کے الیکٹرک اور سوئی سدرن کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

پیپلز پارٹی رہنماؤں نے کے الیکٹرک پر تنقید کرتے ہوئے اسے عوام کے لیے ایک ظالم ادارہ قرار دیا۔ ان کے بقول، ادارے کے قیام کے بعد سے کراچی کے شہری بجلی کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کے الیکٹرک کو سرکاری تحویل میں لیا جائے۔ اس کے ساتھ سوئی سدرن گیس کمپنی سے بھی شہریوں کو گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ سے بجلی اور گیس کی طویل بندش کا فوری نوٹس لینے کی اپیل کی۔

پیپلز پارٹی رہنماؤں نے خبردار کیا کہ لوڈشیڈنگ ختم نہ ہوئی تو آئندہ احتجاج کراچی پریس کلب کے بجائے کے الیکٹرک اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے دفاتر کے باہر ہوگا۔ انہوں نے دونوں اداروں کے دفاتر کا گھیراؤ کرنے کا بھی اعلان کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.