چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان سے مضبوط مینڈیٹ حاصل کرکے اسلام آباد میں خطے کے حقوق کے لیے مؤثر آواز بلند کی جائے گی۔
بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کم
گلگت بلتستان میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علاقے کے حقِ ملکیت اور زمینوں کی تقسیم کے لیے پیپلز پارٹی کی حکومت ناگزیر ہے، کیونکہ قانون سازی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب جماعت کو واضح اکثریت حاصل ہو۔
بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو جماعتیں صوبوں کے حقوق پر سمجھوتہ کرتی ہیں وہ گلگت بلتستان کو اس کا حق نہیں دے سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی حقوق پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کرے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس بار غذر کی تینوں نشستیں پیپلز پارٹی جیتے گی، جبکہ گزشتہ انتخابات میں پارٹی کی 9 نشستیں مبینہ طور پر چھینی گئیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے چاروں صوبوں میں ترقی ہوئی، اور سب سے زیادہ فائدہ پنجاب کو بھی پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ جاری ہے جس کے تحت غریبوں کو مالکانہ حقوق دیے جا رہے ہیں، جبکہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری کے مطابق مخالف جماعتیں عوام کو روزگار دینے کے بجائے ملازمتیں ختم کرنے کی پالیسی پر عمل کرتی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کا منشور عوامی خدمت اور روزگار کی فراہمی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں این آئی سی وی ڈی میں مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے اور گلگت بلتستان میں بھی عالمی معیار کے اسپتال قائم کیے جائیں گے۔
بلاول بھٹو نے اعلان کیا کہ نئے بجٹ میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ غریب طبقات کو مزید ریلیف دیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کو سیاحت کا مرکز بنانے کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے شروع کیے جائیں گے اور مقامی سطح پر صحت و تعلیم کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔