حیدرآباد میں وومن پولیس نے ایک خاتون سرکاری ملازمہ کو گرفتار کر لیا ہے، جس کے خلاف سرکاری امور میں مداخلت اور مبینہ اشتعال انگیزی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی
پولیس کے مطابق جونئیر کلرک ماریہ ساریو کو ایس ایس پی آفس کی جینڈر بیسڈ وائلنس برانچ میں تعینات کیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
الزام ہے کہ عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد ماریہ ساریو نے خواجہ سرا برادری کے بعض افراد کو اپنے محکمے کے خلاف احتجاج پر اکسایا، جس کے نتیجے میں سرکاری دفتر میں ہنگامہ آرائی اور افسران کو ہراساں کرنے کے واقعات پیش آئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق آڈیو اور ویڈیو شواہد سامنے آنے کے بعد ماریہ ساریو سمیت 15 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
وومن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے خاتون ملزمہ کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ مقدمے میں نامزد دیگر افراد کے حوالے سے مزید قانونی کارروائی اور تفتیش جاری ہے۔
واضح رہے کہ مقدمے میں عائد الزامات کی حتمی تصدیق عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگی۔