اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پی ٹی آئی سے بامعنی اور بامقصد مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست ختم کرنا ہوگی۔
کشمیر چوک انڈرپاس کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سڑکیں، انڈرپاسز اور پل عوام کو سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان شاء اللہ ایک دن شاہراہ کشمیر سری نگر تک پہنچے گی۔
پی ٹی آئی سے مذاکرات پر وزیراعظم کا مؤقف
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے اتفاق رائے سے پی ٹی آئی کی قیادت کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا۔
ان کے مطابق حکومتی کمیٹی نے اسپیکر چیمبر میں پی ٹی آئی وفد سے دو روز بات چیت کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو امید تھی کہ مذاکرات کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے اور دھرنوں کی سیاست ختم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے دوران پی ٹی آئی وفد نے طے شدہ امور میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔
گڈاپ فارم ہاؤس موبائل چوری کیس میں پیش رفت، مرکزی ملزم کے بھائی طلب
دھرنوں سے معیشت متاثر ہوتی ہے، وزیراعظم
شہباز شریف نے کہا کہ دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا پہلا اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈھائی سال میں ٹیم ورک کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کی۔
وزیراعظم کے مطابق اب ملک میں معاشی ترقی کا وقت ہے۔ ترسیلات زر اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے اور مختلف حلقے ملکی معاشی پیش رفت کو سراہ رہے ہیں۔
قانون اپنا راستہ لے گا
وزیراعظم نے کہا کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور منفی پروپیگنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے پی ٹی آئی قیادت سے کہا کہ وہ غور کرے کہ احتجاجی سرگرمیوں سے ملک کو فائدہ ہوگا یا نقصان۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت عوام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ اور دھرنے ختم کیے جائیں تو حکومت پی ٹی آئی کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ قوم چاہتی ہے کہ پاکستان محنت، امانت اور دیانت کے ساتھ آگے بڑھے۔