کراچی میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ پر جماعت اسلامی نے احتجاج کا اعلان کردیا۔ امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا کہ شہری کئی گھنٹوں کی بجلی بندش سے متاثر ہو رہے ہیں۔
ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کے الیکٹرک کی لوڈشیڈنگ پر تنقید کی۔ ان کے مطابق بعض علاقوں میں بجلی کی بندش 18 گھنٹے تک پہنچ گئی ہے۔
25 سے زائد مقامات پر احتجاجی کیمپ
منعم ظفر خان نے کہا کہ بجلی کی بندش سے بچے، بزرگ اور خواتین متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کراچی میں 25 سے زائد مقامات پر احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے۔
انہوں نے حکومت سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔
فیک نیوز نہیں چلے گی،” سندھ حکومت کا این سی سی آئی اے سے مدد لینے کا فیصلہ
بل ادا کرنے والے صارفین کا معاملہ
منعم ظفر خان نے دعویٰ کیا کہ کراچی میں صرف دو سے تین فیصد صارفین بجلی کے بل ادا نہیں کرتے۔ ان کے مطابق کے الیکٹرک کو نادہندگان کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پوری آبادی کی بجلی بند کرنا مسئلے کا حل نہیں۔
کراچی میں حالیہ دنوں میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف مختلف علاقوں میں احتجاج بھی ہوا ہے۔
لوڈشیڈنگ پر سرکاری سطح پر بھی کارروائی
لوڈشیڈنگ کے معاملے پر سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی بھی کے الیکٹرک حکام سے وضاحت طلب کرچکی ہے۔ 24 ستمبر کو کمیٹی نے کمپنی کے نمائندوں کے جوابات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
اس سے قبل نیپرا نے بھی کے الیکٹرک کو غیر اعلانیہ اور ضرورت سے زیادہ لوڈشیڈنگ روکنے کی ہدایت کی تھی۔