کراچی: آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کا تفصیلی دورہ کیا۔
یونیورسٹی پہنچنے پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجیب الدین سہرائی میمن نے آئی جی سندھ کا استقبال کیا۔
وائس چانسلر نے جاوید عالم اوڈھو کو یونیورسٹی کی تاریخ، قیام اور نمایاں فارغ التحصیل شخصیات کے بارے میں بریفنگ دی۔
بریفنگ میں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، شاہنواز بھٹو، سر عبداللہ ہارون، خان بہادر محمد ایوب کھوڑو اور شیخ عبدالمجید سندھی سمیت دیگر شخصیات کا ذکر کیا گیا۔
آئی جی سندھ کا مختلف شعبہ جات کا دورہ
جاوید عالم اوڈھو نے یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا۔ انہوں نے اساتذہ اور طلبہ سے بھی گفتگو کی۔
وائس چانسلر نے آئی جی سندھ کو جامعہ کی تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ انہیں انتظامی امور کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔
ضلع سینٹرل پولیس مقابلے: 4 ملزمان ہلاک، 4 زخمی حالت میں گرفتار
قائداعظم میوزیم کا دورہ
آئی جی سندھ نے یونیورسٹی میں قائم قائداعظم میوزیم کا بھی دورہ کیا۔
انہوں نے میوزیم میں محفوظ قائداعظم محمد علی جناح سے متعلق تاریخی اشیا اور یادگاروں کا مشاہدہ کیا۔ جاوید عالم اوڈھو نے یادداشت کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کیے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ قائداعظم سے وابستہ تاریخی ورثہ قومی اثاثہ ہے۔ اسے محفوظ رکھنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی نسل کو قائداعظم کے افکار اور تاریخی ورثے سے آگاہ کیا جانا چاہیے۔
طلبہ کو منشیات سے دور رہنے کی ہدایت
جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ نوجوان نسل ملک کا قیمتی اثاثہ اور مستقبل ہے۔
انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ کردار سازی پر بھی توجہ دیں۔ نظم و ضبط، برداشت اور ذمہ داری کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ منشیات نوجوانوں کے مستقبل کے لیے بڑا خطرہ ہیں۔ طلبہ خود بھی منشیات سے دور رہیں اور اپنے اردگرد شعور اجاگر کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایک اچھا شہری قانون کی پاسداری کرتا ہے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرتا ہے اور معاشرے کی بہتری میں کردار ادا کرتا ہے۔
پولیس اور تعلیمی اداروں کے رابطے پر زور
آئی جی سندھ نے کہا کہ تعلیمی ادارے صرف تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ ذمہ دار شہریوں کی کردار سازی میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مجیب الدین سہرائی میمن نے آئی جی سندھ کی آمد کو جامعہ کے لیے باعث اعزاز قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور تعلیمی اداروں کے درمیان رابطہ نوجوانوں میں قانون پسندی اور معاشرتی ذمہ داری کا شعور بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔