پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ نے مبینہ ہراسانی اور منفی مہم کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے مکمل گفتگو کا ریکارڈ کمیشن میں پیش کرنے کی پیشکش بھی کردی۔
میر رضا کیس کی تحقیقات کرنے والے جوڈیشل کمیشن کے سامنے ڈاکٹر سمیہ نے شکایت جمع کرادی۔ پولیس سرجن نے ڈاکٹر اسامہ پر مبینہ ہراسانی کا الزام لگایا۔
ڈاکٹر سمیہ کے مطابق ڈاکٹر اسامہ نے نجی گفتگو کے ایڈٹ شدہ حصے لیک کیے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے ان کی پیشہ ورانہ ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔
ڈاکٹر اسامہ پر گفتگو لیک کرنے کا الزام
شکایت میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر اسامہ کمیشن کے سامنے تین مرتبہ پیش ہوئے۔ ڈاکٹر سمیہ کے مطابق انہوں نے مکمل گفتگو کا ریکارڈ پیش نہیں کیا۔
ان کے مطابق گفتگو کے مخصوص حصے بعض نجی میڈیا چینلز کو دیے گئے۔ کچھ حصے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی فراہم کیے گئے۔
ڈاکٹر سمیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔ ان کے مطابق اس سے اصل معاملے سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہوئی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ پر اختلاف
ڈاکٹر سمیہ نے کمیشن کو بتایا کہ ڈاکٹر اسامہ عبوری پوسٹ مارٹم رپورٹ کو درست قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ڈاکٹر اسامہ حتمی رپورٹ کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں۔
پولیس سرجن نے ڈاکٹر اسامہ کے بیانات کو متضاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر مزید وضاحت ضروری ہے۔
کے ڈی اے ڈی جی زین العابدین انصاری کا کورنگی منصوبوں کا معائنہ
طبی رپورٹ پر ڈاکٹر سمیہ کا مؤقف
ڈاکٹر سمیہ نے طبی اصولوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق کثیر رکنی میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کو اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ سنگل پوسٹ مارٹم کے بعد بورڈ کی رپورٹ سامنے آئی۔ ان کے مطابق ایسی صورت میں سابقہ رپورٹ کی حیثیت ثانوی ہوجاتی ہے۔
ڈاکٹر سمیہ نے گولی لگنے اور نکلنے کے زخموں سے متعلق ابتدائی نتائج پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے اپنے مؤقف کے حق میں سائنسی شواہد کا حوالہ دیا۔
مکمل ریکارڈ کمیشن میں پیش کرنے کی پیشکش
ڈاکٹر سمیہ نے جوڈیشل کمیشن سے اہم درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ اجازت ملنے پر مکمل گفتگو کا ریکارڈ پیش کیا جاسکتا ہے۔
ان کے مطابق مکمل ریکارڈ کے جائزے سے معاملہ واضح ہوسکتا ہے۔ اس سے غلط فہمیوں اور مختلف تشریحات کا بھی جائزہ لیا جاسکے گا۔
ڈاکٹر اسامہ کا مؤقف اس شکایت کے متن میں شامل نہیں ہے۔ شکایت میں عائد الزامات کی آزادانہ تصدیق بھی اس خبر میں شامل نہیں۔