این سی سی آئی اے شاہراہ فیصل پر کارروائی، کال سینٹر سے 27 ملزمان گرفتار

کراچی میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کارروائی کی۔
کارروائی شاہراہ فیصل کے بزنس ایوینیو میں قائم کال سینٹر پر کی گئی۔

این سی سی آئی اے کے مطابق کارروائی کے دوران 27 ملزمان گرفتار ہوئے۔
گرفتار افراد میں چار افغان باشندے بھی شامل ہیں۔

کال سینٹر کے تین مبینہ مالکان کو بھی گرفتار کیا گیا۔
ایجنسی کے مطابق ملزمان بین الاقوامی فراڈ میں ملوث تھے۔

غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بنانے کا الزام

این سی سی آئی اے کے مطابق ملزمان غیر ملکی شہریوں کو نشانہ بناتے تھے۔
وہ خود کو امریکی بینکوں اور ڈیبٹ سیٹلمنٹ اداروں کا نمائندہ ظاہر کرتے تھے۔

ابتدائی تحقیقات میں حساس معلومات حاصل کرنے کا انکشاف ہوا۔
ملزمان مالیاتی اداروں کے مجاز نمائندے بن کر شہریوں سے رابطہ کرتے تھے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق جعلی اور اسپوف کالز بھی کی جاتی تھیں۔
ملزمان تیار شدہ اسکرپٹس کے ذریعے غیر ملکی شہریوں سے رابطہ کرتے تھے۔

حساس معلومات حاصل کرنے کا انکشاف

ایجنسی کے مطابق ملزمان کے پاس غیر ملکی شہریوں کا ڈیٹا موجود تھا۔
اس میں سوشل سیکیورٹی نمبرز اور موبائل نمبرز شامل تھے۔

تاریخ پیدائش سمیت دیگر حساس معلومات بھی موجود تھیں۔
بینک اکاؤنٹس اور کریڈٹ کارڈز کی معلومات بھی حاصل کی جاتی تھیں۔

ڈیبٹ کارڈز سے متعلق حساس معلومات بھی مبینہ طور پر حاصل کی گئیں۔
یہ معلومات کال سینٹر سے منسلک افراد کو منتقل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ڈیجیٹل آلات فرانزک کے لیے جمع

این سی سی آئی اے نے کارروائی کے دوران ڈیجیٹل آلات قبضے میں لیے۔
ان میں لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور دیگر آلات شامل ہیں۔

ایجنسی کے مطابق تکنیکی جانچ میں اسپوفنگ ڈائلرز کے شواہد ملے۔
فراڈ کالنگ تکنیک کے استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے۔

ڈیجیٹل آلات 15 ستمبر کو سیزر میمو کے تحت تحویل میں لیے گئے۔
ضبط شدہ آلات فرانزک اور تکنیکی معائنے کے لیے بھیج دیے گئے۔

مالیاتی نیٹ ورک کی تحقیقات جاری

این سی سی آئی اے کے مطابق تین کال سینٹر مالکان کی شناخت ہوئی ہے۔
ان میں علی صدیقی عرف میڈی، فواد احمد اور فاروق شامل ہیں۔

ایجنسی نے تینوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا ہے۔
تینوں مالکان اور چار افغان باشندوں سمیت 27 ملزمان ایف آئی آر میں نامزد ہیں۔

این سی سی آئی اے نے مبینہ مالیاتی نیٹ ورک کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
منی ٹریل کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔

گرفتار ملزمان کے انفرادی کردار کی تحقیقات جاری ہیں۔
نیٹ ورک سے منسلک مزید افراد کی شناخت بھی کی جارہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!