نئے صوبے محسن نقوی کی تجویز نے آئینی بحث چھیڑ دی

وزیر داخلہ محسن نقوی کی تجویز نے نئے صوبے بنانے اور انتظامی اکائیوں کی تشکیل سے متعلق نئی آئینی بحث شروع کردی ہے۔

محسن نقوی نے چند روز قبل لاہور میں نیشنل پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انتظامی نظام میں تبدیلی کسی فرد، سیاسی جماعت یا حکومت کو مسلط نہیں کرنی چاہیے۔

ان کے مطابق پارلیمنٹ، ماہرین اور متعلقہ افراد کو اس معاملے پر بحث کرنی چاہیے۔ اس کے بعد عوام کی رائے بھی حاصل کی جانی چاہیے۔

انہوں نے تجویز دی کہ انتظامی تبدیلی کا ایک مسودہ تیار کرکے عوام کے سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ عوام سے پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔

کیا ریفرنڈم کے ذریعے صوبہ بن سکتا ہے؟

محسن نقوی نے اپنے بیان میں براہ راست ’’ریفرنڈم‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔ تاہم عوام سے براہ راست رائے لینے کی تجویز نے اس امکان پر بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔

آئین کا آرٹیکل 48 قومی اہمیت کے معاملے پر ریفرنڈم کا طریقہ فراہم کرتا ہے۔ آرٹیکل 48(6) کے تحت وزیراعظم کسی قومی اہمیت کے معاملے پر ریفرنڈم کی تجویز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرسکتے ہیں۔

اگر مشترکہ اجلاس اس تجویز کی منظوری دے دے تو معاملہ عوام کے سامنے ہاں یا نہیں کی صورت میں رکھا جاسکتا ہے۔

تاہم آئین میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ریفرنڈم کے ذریعے براہ راست نیا صوبہ قائم کیا جاسکتا ہے یا کسی موجودہ صوبے کی حدود تبدیل کی جاسکتی ہیں۔

صوبائی حدود کی تبدیلی کا آئینی طریقہ

آئین کا آرٹیکل 239 صوبائی حدود میں تبدیلی کے لیے الگ طریقہ کار مقرر کرتا ہے۔

کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنے والی آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں مطلوبہ اکثریت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی کم از کم دو تہائی اکثریت بھی درکار ہوتی ہے۔

یہی نکتہ موجودہ بحث کو اہم بناتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آرٹیکل 48 کے تحت عوامی رائے لینے کا عمومی طریقہ کیا آرٹیکل 239 کے مخصوص طریقہ کار پر غالب آسکتا ہے یا نہیں۔

صوبہ اور انتظامی یونٹ ایک نہیں

اس بحث میں ’’صوبہ‘‘ اور ’’انتظامی یونٹ‘‘ کے فرق کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔

نئے صوبے کا قیام آئینی اور علاقائی تبدیلی کا معاملہ ہے۔ اس کے لیے آئینی طریقہ کار پر عمل کرنا ہوگا۔

دوسری طرف حکومتیں موجودہ آئینی ڈھانچے کے اندر انتظامی سطح پر نئی اکائیاں تشکیل دے سکتی ہیں۔ ایسی تبدیلی کے لیے صوبہ بنانے جیسی آئینی ترمیم لازمی نہیں ہوتی۔

بحث اب آئینی دائرے تک پہنچ گئی

محسن نقوی نے اپنی تجویز میں نئے صوبوں کے ساتھ انتظامی یونٹس کا بھی ذکر کیا ہے۔ اسی وجہ سے بحث صرف مزید صوبے بنانے کی ضرورت تک محدود نہیں رہی۔

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ عوامی رائے وفاق کی تنظیم نو کے لیے سیاسی مینڈیٹ دے سکتی ہے یا نہیں۔

دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ صوبائی حدود میں کسی بھی تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلی کی منظوری لازمی ہوگی یا عوامی رائے شماری بھی فیصلہ کن کردار ادا کرسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!