گندم کی قیمت میں اضافے کے بعد آٹا بھی مہنگا ہوگیا ہے۔ فلور ملز نے مختلف اقسام کے آٹے کے نرخ بڑھا دیے ہیں۔
کراچی میں ڈھائی نمبر آٹا 160 روپے فی کلو تک فروخت ہونے لگا ہے۔ فائن آٹے کی قیمت 175 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ چکی کا آٹا 180 روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے۔
گندم کی قیمت 130 روپے کلو تک پہنچ گئی
گندم کی قیمت میں 15 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد گندم کی نئی قیمت 130 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔
فلور ملز نے ڈھائی نمبر آٹے کی قیمت میں بھی 15 روپے فی کلو اضافہ کیا ہے۔ مل سطح پر اس کی قیمت 145 روپے فی کلو ہوگئی ہے۔
خوردہ بازار میں ڈھائی نمبر آٹا 160 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔ فائن آٹے کی قیمت میں 13 روپے فی کلو اضافہ کیا گیا ہے۔
چکی کے آٹے کی قیمت بھی بڑھ گئی
چکی کے آٹے کی قیمت میں 10 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔ اس کے بعد چکی کا آٹا 180 روپے فی کلو تک فروخت ہورہا ہے۔
آٹے کی قیمت میں اضافے سے شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے گھریلو اخراجات پورے کرنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بنیادی ضرورت کی اشیا مسلسل مہنگی ہورہی ہیں۔ آٹے کی قیمت میں اضافے سے ان کے بجٹ پر مزید دباؤ پڑا ہے۔
فلور ملز کا حکومت سے گندم درآمد کرنے کا مطالبہ
فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ موجودہ قیمت پر گندم خرید کر سرکاری نرخ پر آٹا فروخت کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق گندم کی بڑھتی قیمت نے آٹے کے نرخ متاثر کیے ہیں۔
فلور ملز نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ ملز مالکان نے 20 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی تجویز دی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ گندم کی دستیابی بہتر کیے بغیر آٹے کی قیمتوں کو قابو میں رکھنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے گندم کی درآمد کے لیے فوری فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔