...

ایدھی سینٹر ڈکیتی: 65 لاکھ روپے لوٹنے والے ملزمان ایک ماہ بعد بھی پولیس کی گرفت سے باہر

کراچی: ایدھی سینٹر ڈکیتی کو ایک ماہ گزرنے کے باوجود پولیس 65 لاکھ روپے لوٹنے والے ملزمان کا سراغ نہیں لگا سکی۔ واردات پر وزیراعلیٰ سندھ اور آئی جی سندھ نے نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی تھی۔

پولیس کے مطابق 7 اگست کو چار مسلح ملزمان سہراب گوٹھ میں قائم ایدھی سینٹر میں داخل ہوئے اور اسلحے کے زور پر عملے کو یرغمال بنا کر 65 لاکھ روپے نقدی لوٹ لی۔ یہ رقم ملازمین کی تنخواہوں اور لاوارث بچوں میں وظائف کی تقسیم کے لیے بینک سے نکلوائی گئی تھی۔ واردات کے بعد ملزمان ناگن چورنگی کی جانب فرار ہوگئے۔

واقعے کی اطلاع ملنے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے نوٹس لیا اور پولیس کو ملزمان کی گرفتاری کی ہدایت کی۔ ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد اے ایس پی گلبرگ ڈویژن منیشا روپیٹا کی سربراہی میں پانچ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔

ٹیم میں سمن آباد، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا، شارع نور جہاں اور تیموریہ تھانوں کے ایس ایچ اوز شامل تھے، تاہم ایک ماہ گزرنے کے باوجود تفتیش میں کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آسکی۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے 31 اگست کو وزیراعلیٰ سندھ کو خط بھی ارسال کیا، جس کی نقول صوبائی وزیر داخلہ اور آئی جی سندھ کو بھی بھیجی گئیں۔ خط میں کہا گیا کہ لوٹی گئی رقم فاؤنڈیشن کے ملازمین کی تنخواہوں کے لیے مختص تھی اور مقدمہ سمن آباد تھانے میں درج ہے، تاہم پولیس اب تک ملزمان تک نہیں پہنچ سکی۔

فیصل ایدھی نے وزیراعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا کہ متعلقہ پولیس حکام کو ملزمان کا سراغ لگانے، انہیں گرفتار کرنے اور 65 لاکھ روپے کی رقم برآمد کرنے کی ہدایت کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایدھی فاؤنڈیشن ایمبولینس سروس، یتیم خانے، شیلٹر ہومز اور اسپتال چلاتی ہے، اس لیے رقم کی چوری ادارے کے لیے بڑا مالی نقصان ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان سعد ایدھی کے مطابق ایک ماہ گزرنے کے باوجود تفتیش اور انکوائری کمیٹی کی کارروائی سے کوئی اہم نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

واردات کے دو روز بعد 9 اگست کو کراچی پریس کلب کے باہر ایدھی رضاکاروں، اہل خانہ، مزدور تنظیموں، سول سوسائٹی اور شہریوں نے احتجاج بھی کیا تھا۔ مظاہرین نے ملزمان کی فوری گرفتاری اور لوٹی گئی رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا۔

تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہ اے ایس پی منیشا روپیٹا نے بتایا کہ پولیس تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق واردات سے متعلق دستیاب تکنیکی معلومات حاصل کرلی گئی ہیں اور ملزمان کا سراغ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.