...

سندھ پولیس اسپتال: آئی جی سندھ کی طبی سہولیات بہتر بنانے کی ہدایات

کراچی: سندھ پولیس اسپتال میں طبی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی زیرِ صدارت گارڈن ہیڈکوارٹرز میں اجلاس ہوا، جس میں اسپتال کی موجودہ کارکردگی، علاج کی سہولیات اور درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔

اجلاس میں ڈی آئی جیز ہیڈکوارٹرز، فنانس، ایڈمن کراچی اور ساؤتھ زون، اے آئی جیز اسٹیٹ مینجمنٹ، لاجسٹکس اور ویلفیئر کے علاوہ ایم ایس پولیس اسپتال ڈاکٹر ارشد شیخ، ایڈیشنل ایم ایس اور دیگر ڈاکٹرز نے شرکت کی۔

ایم ایس پولیس اسپتال نے آئی جی سندھ کو او پی ڈی، ہنگامی طبی امداد، لیبارٹری سروسز، ادویات کی فراہمی اور ڈاکٹرز و پیرا میڈیکل اسٹاف کی دستیابی سمیت مختلف شعبوں کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ اسپتال کی تمام دستیاب میڈیکل آفیسرز کی آسامیوں پر ڈاکٹرز تعینات ہیں، جبکہ روزانہ تقریباً 300 سے 400 مریض او پی ڈی سے استفادہ کرتے ہیں۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ پولیس اسپتال کی ٹیسٹنگ لیبارٹری نجی شعبے کی معیاری لیبارٹریز کے طرز پر کام کر رہی ہے اور مریضوں کو ٹیسٹ کے نتائج فراہم کر رہی ہے۔ شوگر، ہائپرٹینشن اور دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کو ادویات بھی مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

ڈی آئی جی فنانس نے اسپتال کے مالی معاملات، ادویات اور طبی و تکنیکی آلات کی خریداری، کمپیوٹرز اور سی سی ٹی وی کیمروں کی ضرورت، انفرااسٹرکچر، ویئر ہاؤس کی تعمیر و مرمت اور دیگر زیرِ التوا امور سے اجلاس کو آگاہ کیا۔

آئی جی سندھ نے بتایا کہ سندھ حکومت پولیس ملازمین اور ان کے اہلخانہ کے علاج کے لیے اِن ڈور مریضوں کی سہولت کے تحت 10 لاکھ روپے تک کی ہیلتھ انشورنس فراہم کر رہی ہے۔ تاہم موجودہ انشورنس پالیسی میں او پی ڈی، لیبارٹری ٹیسٹ، موسمی بیماریوں اور روزمرہ استعمال کی ادویات شامل نہیں ہیں۔

جاوید عالم اوڈھو نے ہدایت کی کہ سندھ پولیس کے اسپتالوں اور ڈسپنسریوں میں او پی ڈی اور لیبارٹری ٹیسٹ کی سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے۔ انہوں نے پولیس اسپتال کی ایمرجنسی سروس ہر وقت فعال رکھنے اور مشینری، ادویات اور طبی عملے کی دستیابی یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔

آئی جی سندھ نے محکمہ صحت حکومت سندھ سے فزیشن، سرجن اور کنسلٹنٹس کی پولیس اسپتالوں میں تعیناتی کے لیے درخواست کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ڈی آئی جی فنانس کو ویئر ہاؤس کی تعمیر، ضروری سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب اور کمپیوٹرز کی فراہمی یقینی بنانے کا بھی حکم دیا۔

انہوں نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے علاج معالجے کی سہولیات بہتر بنانے کے امکانات پر تجاویز طلب کیں۔ آئی جی سندھ نے طبی شعبوں میں سند، تجربہ اور مہارت رکھنے والے پولیس اہلکاروں، خصوصاً خواتین اہلکاروں، کو پولیس اسپتالوں میں تعینات کرنے کی ہدایت بھی دی۔

اجلاس کے بعد آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سندھ پولیس اسپتال کے مختلف شعبوں، لیبارٹریز، ٹیسٹنگ مشینوں اور مریضوں کے وارڈز کا دورہ کیا اور وہاں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کا معائنہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.