کراچی: جامعہ کراچی کے پروفیسر پر تشدد، تین افراد حراست میں، ہوٹل مالک کا بیٹا فرار

کراچی میں جامعہ کراچی کے شعبۂ اسلامک لرننگ کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر عارف خان ساقی کو صفورا چورنگی کے قریب ایک معمولی تنازع کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث تین افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ ہوٹل مالک کا بیٹا فرار ہوگیا۔

پولیس کے مطابق واقعہ سچل تھانے کی حدود میں صفورا چورنگی کے قریب پیش آیا، جہاں ڈاکٹر عارف خان ساقی ایک آن لائن بائیک سروس کے ذریعے جامعہ کراچی جا رہے تھے۔

ڈاکٹر عارف خان ساقی نے اپنے ویڈیو بیان میں بتایا کہ رم جھم ٹاؤن سے صفورا چورنگی پہنچنے کے بعد وہ سندھ گرین ریسٹورنٹ کے قریب موجود تھے۔ اسی دوران ریسٹورنٹ سے ایک ڈالا سڑک پر آنے کے لیے ریورس ہوا اور ان کی موٹرسائیکل سے ٹکرا گیا۔

ان کے مطابق انہوں نے ڈالا ڈرائیور سے موٹرسائیکل کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کرنے کا کہا، کیونکہ آن لائن بائیک رائیڈر اپنی روزی کمانے کے لیے موٹرسائیکل چلا رہا تھا اور نقصان برداشت کرنا اس کے لیے مشکل تھا۔

پروفیسر عارف خان ساقی کا کہنا ہے کہ اسی دوران سندھ گرین ریسٹورنٹ کے مالک کا بیٹا باہر آیا۔ ان کے مطابق اس شخص نے پہلے ہوائی فائرنگ کی اور پھر پستول کے بٹ سے انہیں زخمی کردیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں اور بائیک رائیڈر کو گھسیٹ کر ریسٹورنٹ کے اندر لے جایا گیا، جہاں ان کے موبائل فون بھی لے لیے گئے۔ ان کے بقول وہاں انہیں مزید تشدد کا سامنا کرنا پڑا اور کچھ دیر تک باہر جانے نہیں دیا گیا۔ بعد میں موبائل فون واپس کردیئے گئے۔

پروفیسر کے مطابق ملیر سے پولیس اہلکار موقع پر پہنچے اور انہیں سچل تھانے منتقل کیا گیا، جہاں ان کا بیان لیا گیا۔

سچل تھانے کے ایس ایچ او اعجاز پٹھان نے بتایا کہ ابتدائی طور پر واقعہ گاڑیوں کے ٹکرانے کے بعد ہونے والے جھگڑے سے متعلق سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق جھگڑے کے دوران سندھ گرین ہوٹل کے مالک کے بیٹے کے گن مینوں نے ڈاکٹر عارف خان ساقی کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ایس ایچ او نے ہوٹل مالک کے بیٹے کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے الزام کی تصدیق سے گریز کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عارف خان ساقی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی جاری ہے۔

واقعے پر انجمن اساتذہ جامعہ کراچی نے بھی شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر شیخ محمد ذیشان اقبال نے سینئر استاد پر تشدد اور مبینہ طور پر حبسِ بیجا میں رکھنے کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

بعد ازاں سچل پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تین افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق زیرِ حراست افراد سندھ گرین ریسٹورنٹ کے ملازمین ہیں، جبکہ ہوٹل مالک کا بیٹا تاحال فرار ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔

One thought on “کراچی: جامعہ کراچی کے پروفیسر پر تشدد، تین افراد حراست میں، ہوٹل مالک کا بیٹا فرار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!