کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے 28 سالہ دکان کے ملازم شہزاد کو قتل کردیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان مقتول کی موٹر سائیکل، موبائل فون اور نقدی چھین کر فرار ہوگئے۔
واقعہ لیاقت آباد نمبر 10 میں سریا کٹ کے قریب ایل پی جی سلنڈر کی دکان پر پیش آیا، جہاں موٹر سائیکل سوار دو مسلح ملزمان داخل ہوئے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے دکان میں موجود ملازم سے موٹر سائیکل کی چابی مانگی، تاہم انکار پر انہوں نے فائرنگ کردی۔ گولی سر میں لگنے سے شہزاد موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔
پولیس کے مطابق ملزمان واردات کے لیے جو موٹر سائیکل استعمال کرکے آئے تھے، اسے موقع پر چھوڑ گئے اور مقتول کی موٹر سائیکل لے کر فرار ہوگئے۔ پولیس نے ملزمان کی چھوڑی ہوئی موٹر سائیکل قبضے میں لے لی، جبکہ جائے وقوعہ سے 30 بور پستول کا ایک خول بھی ملا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ سے شواہد جمع کیے۔ پولیس نے مقتول کے ساتھی اور واقعے کے عینی شاہد 15 سالہ طیب کا بیان بھی قلم بند کرلیا ہے۔
ایس ایچ او لیاقت آباد شوکت اعوان کے مطابق شہزاد ایل پی جی کی دکان پر ملازمت کرتا تھا اور واقعے کے وقت اپنے ساتھی طیب کے ساتھ دکان میں موجود تھا۔ پولیس افسر کے مطابق ابتدائی تفتیش میں واقعہ ڈکیتی کے دوران مزاحمت کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔
عینی شاہد طیب نے بتایا کہ صبح کے وقت دو موٹر سائیکل سوار افراد دکان پر آئے اور موٹر سائیکل میں خرابی کا بہانہ کرکے پلگ پانا مانگا۔ دکان میں یہ سامان موجود نہ ہونے پر دونوں افراد وہاں سے چلے گئے، تاہم تقریباً ایک منٹ بعد موٹر سائیکل واپس موڑ کر دکان میں داخل ہوگئے۔
طیب کے مطابق ایک ملزم نے ماسک پہن رکھا تھا۔ دونوں ملزمان نے اسلحہ دکھا کر اسے ایک طرف بٹھا دیا، جبکہ دکان میں موجود شہزاد اس وقت سو رہا تھا۔ ملزمان نے شہزاد کو جگایا، اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کا موبائل فون اور جیب میں موجود تقریباً 15 ہزار روپے چھین لیے۔
عینی شاہد کے مطابق ملزمان نے شہزاد سے موٹر سائیکل کی چابی مانگی، لیکن اس نے انکار کردیا۔ اس پر ملزمان نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور فائرنگ کردی۔ گولی لگنے سے شہزاد زمین پر گر گیا۔
طیب نے بتایا کہ ملزمان نے شہزاد کی جیب سے موٹر سائیکل کی چابی نکالی اور اسے خاموش رہنے کی دھمکی دی۔ بعد ازاں وہ موٹر سائیکل لے کر موقع سے فرار ہوگئے۔
پولیس نے قانونی کارروائی کے لیے شہزاد کی لاش چھیپا ایمبولینس کے ذریعے عباسی شہید اسپتال منتقل کی۔ پولیس کے مطابق مقتول کا تعلق جنوبی پنجاب سے تھا۔
پولیس کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کراچی میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 50 ہوگئی ہے۔