...

سندھ لیبر کوڈ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر قانون نافذ نہیں ہوگا، سعید غنی

وزیر محنت سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ لیبر کوڈ مشاورت کے بغیر نافذ نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات چیت جاری ہے۔ حکومت مزدوروں اور آجروں دونوں کو شامل کرنا چاہتی ہے۔

سعید غنی نے یہ بات نیشنل لیبر کانفرنس 2026 سے خطاب میں کہی۔ کانفرنس پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (PILER) نے منعقد کی۔

ورکرز ویلفیئر بورڈ میں مسائل

سعید غنی نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے بورڈ میں مبینہ کرپشن کا ذکر کیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ کارروائی کی کوششوں میں عدالتی احکامات رکاوٹ بنتے رہے ہیں۔ بعض افراد کی بحالی بھی عدالتی احکامات کے بعد ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیٹی کے کام میں بھی رکاوٹیں پیش آئیں۔ ان کے مطابق بورڈ کے پاس مزدوروں کی فلاح کے لیے فنڈز موجود ہیں۔

کم از کم اجرت پر عملدرآمد

سعید غنی نے محکمہ محنت کی افرادی قوت کی کمی کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق لاکھوں اداروں کا روزانہ معائنہ ممکن نہیں۔

انہوں نے مزدوروں سے شکایات درج کرانے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ شکایت پر محکمہ کارروائی کرسکتا ہے۔

سندھ اسمبلی کو حال ہی میں کم از کم اجرت سے متعلق کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا تھا۔ 2022 سے 2025 تک 2,031 اداروں کے خلاف کارروائی ہوئی۔ ان پر 4 کروڑ 51 لاکھ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

محکمہ محنت میں افسران کی کمی

سعید غنی نے محکمہ محنت میں افسران کی کمی کی نشاندہی کی۔ انہوں نے کہا کہ مطلوبہ تعداد کے مقابلے میں افسران کم ہیں۔

ان کے مطابق بعض افسران دوسرے محکموں میں تبادلہ کرا لیتے ہیں۔ انہوں نے اس معاملے پر کابینہ کو تجویز بھی دی ہے۔

تجویز میں 2 سے 3 سال تک تبادلے پر پابندی شامل ہے۔ اس کا اطلاق پبلک سروس کمیشن سے بھرتی ہونے والے افسران پر ہوگا۔

بینظیر مزدور کارڈ اور سماجی تحفظ

سعید غنی نے مزدوروں کے لیے مختلف اقدامات کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق متعلقہ اداروں کو ایک چھتری تلے لانے کا کام جاری ہے۔

انہوں نے یونیورسلائزیشن آف سوشل سکیورٹی کا بھی ذکر کیا۔ بینظیر مزدور کارڈ کا عمل تیز کرنے کی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔

صوبائی وزیر نے ورکرز ویلفیئر فنڈ اور EOBI کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کے مطابق دونوں ادارے صوبوں کو منتقل نہیں کیے گئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس صورتحال سے سندھ کو سالانہ نقصان ہوتا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت سے معاملے پر بات چیت جاری ہے۔

نجکاری پر سعید غنی کے تحفظات

سعید غنی نے سرکاری اداروں کی نجکاری پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔ انہوں نے نجکاری کے بعد نگرانی کے نظام پر سوال اٹھایا۔

ان کے مطابق بعض اداروں کی زمین اور مشینری فروخت کردی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عمل سے مزدور بے روزگار ہوتے ہیں۔

انہوں نے ماضی کی بعض نجکاریوں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق MCB کی نجکاری کا معاملہ نیب کے کیسز میں شامل رہا ہے۔

ولیکا اسپتال کے اقدامات

سعید غنی نے ولیکا اسپتال میں HIV کیسز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کی تحقیقات کرائی گئی ہیں۔

ان کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی جاری ہے۔ متاثرہ خاندان کے لیے 2 ارب روپے کا اینڈومنٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خاندان کو ماہانہ 40 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔ بچے کا علاج بھی سیسی کے تحت کرایا جا رہا ہے۔

سعید غنی نے اسپتالوں کی بہتری کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق ولیکا اسپتال سائٹ کی مینجمنٹ نجی ادارے کو دی جائے گی۔

انہوں نے واضح کیا کہ اسپتال محکمہ محنت ہی کے تحت رہے گا۔ دیگر اسپتالوں کے لیے بھی اسی ماڈل پر غور کیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!
Seraphinite AcceleratorOptimized by Seraphinite Accelerator
Turns on site high speed to be attractive for people and search engines.