کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ٹرائل میں مبینہ تاخیر کے خلاف درخواست کی سماعت کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کو مقدمے کی کارروائی قانون کے مطابق جلد مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے کیس کے ٹرائل سے متعلق اپنی رپورٹ سندھ ہائیکورٹ میں جمع کرائی۔ رپورٹ میں ٹرائل کورٹ نے مقدمے کی کارروائی میں تاخیر کا ذمہ دار ملزم ارمغان اور اس کے وکیل خرم عباس کو قرار دیا۔
سندھ ہائیکورٹ نے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے متعلقہ عدالت کو قانون کے مطابق کارروائی آگے بڑھانے اور مقدمے کا ٹرائل جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
عدالت نے مقدمے کے ملزمان ارمغان اور شیراز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 ستمبر تک جواب طلب کرلیا۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملزمان مختلف حیلے بہانے اختیار کرکے مقدمے کے ٹرائل میں تاخیر کر رہے ہیں۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کو مقدمے کی کارروائی جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی جائے۔
سندھ ہائیکورٹ نے درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ عدالت کو قانون کے مطابق مقدمے کی سماعت جاری رکھنے اور ٹرائل جلد مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔