ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے الزام عائد کیا ہے کہ شہر کو الگ کرنے کی کوششیں مبینہ طور پر کرپشن اور چائنا کٹنگ کے لیے کی جا رہی ہیں۔
گارڈن پمپنگ اسٹیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ یہ پمپنگ اسٹیشن 2005 میں تعمیر ہوا تھا، مگر کبھی فعال نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم دونوں سیاسی طور پر موجود تھیں۔ ان کے مطابق گارڈن اس دور میں ایم کیو ایم کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔
مرتضیٰ وہاب نے دعویٰ کیا کہ اس وقت علاقے کے لوگوں کو پمپنگ اسٹیشن کے نام پر امید دلائی گئی۔ تاہم منصوبہ مکمل ہونے کے باوجود شہریوں کو اس سے فائدہ نہیں پہنچا۔
میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کو لسانیت، خوف اور انتشار کی سیاست سے نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق ایسی سیاست کو ختم کردیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ بعض عناصر شہر کو دوبارہ تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق مقصد چڑیا گھر میں دکانیں اور رفاہی پلاٹوں پر شادی ہال چلانے جیسے مفادات حاصل کرنا ہے۔
جماعت اسلامی سے متعلق مرتضیٰ وہاب کا مؤقف
مرتضیٰ وہاب نے جماعت اسلامی کے احتجاج پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مطالبات وفاقی حکومت سے ہیں تو حافظ نعیم الرحمان اسلام آباد جاکر احتجاج کریں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کی سڑکیں بند کرکے شہریوں کو مشکلات میں نہیں ڈالنا چاہیے۔ ان کے مطابق احتجاج کے باعث شہر کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی کے شہری اب تقسیم اور خوف کی سیاست نہیں چاہتے۔ ان کے مطابق شہر کی ترقی اور بنیادی سہولیات پر توجہ دینی چاہیے۔
نوٹ: ایم کیو ایم یا دیگر متعلقہ فریقوں کا اس بیان پر تازہ مؤقف فراہم کردہ خبر میں شامل نہیں ہے۔