دفاعی افواج ایکٹ 2026 میں ترامیم کا بل سینیٹ نے بھی منظور کرلیا۔ قومی اسمبلی اس بل کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے۔
قومی اسمبلی میں منظوری
قومی اسمبلی کے اجلاس میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ ترمیمی بل 2026 کثرت رائے سے منظور ہوا۔ اپوزیشن نے ووٹنگ کا بائیکاٹ کیا۔
اس کے بعد ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 بھی منظور کرلیا گیا۔ اپوزیشن ارکان نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
اپوزیشن نے بل کی کاپیاں نہ ملنے پر اعتراض اٹھایا۔ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بل پر تفصیلی بحث کا مطالبہ کیا۔
سینیٹ میں بھی منظوری
قومی اسمبلی کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے سینیٹ میں دونوں بل پیش کیے۔ ایوان نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
سینیٹ نے ڈیفنس فورسز آف پاکستان ترمیمی بل 2026 بھی منظور کیا۔ پی ٹی آئی ارکان نے بل پر بحث کا مطالبہ کیا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ میں ضروری ترمیم کی گئی ہے۔ اس میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے حوالے سے نئی شق شامل کی گئی ہے۔
دفاعی افواج ایکٹ کے اہم نکات
نئے قانون کے تحت دفاعی افواج کا ایک ہیڈکوارٹر قائم ہوگا۔ یہ ہیڈکوارٹر چیف آف ڈیفنس فورسز کی کمان میں کام کرے گا۔
چیف آف ڈیفنس فورسز مسلح افواج کی عملی کمان اور کنٹرول سنبھالیں گے۔ وہ اس معاملے میں وفاقی حکومت کو جوابدہ ہوں گے۔
دفاعی ہیڈکوارٹر قومی سلامتی اور دفاعی امور میں وزیراعظم کے اعلیٰ فوجی مشیر کے طور پر کام کرے گا۔
قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج سے متعلق مختلف انتظامی اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔ ان میں تقرری، ریٹائرمنٹ اور ملازمت سے متعلق بعض اختیارات شامل ہیں۔
وفاقی حکومت قانون پر عمل درآمد کے لیے قواعد و ضوابط بنائے گی۔ صدر مملکت قانون پر عمل درآمد میں پیدا ہونے والی مشکلات دور کرنے کے لیے اقدامات کرسکیں گے۔
قانون کے نفاذ کی تاریخ
وفاقی کابینہ نے پارلیمانی منظوری سے قبل دونوں قوانین میں ترامیم کی منظوری دی تھی۔ حکومت کے مطابق یہ ترامیم 27ویں آئینی ترمیم کے تسلسل میں کی گئی ہیں۔
ترمیمی قانون 13 نومبر 2025 سے نافذالعمل ہوگا۔