بہادرآباد میں ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز پر دو گروپوں کے درمیان جھگڑے اور ہوائی فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کر لیا گیا۔ مقدمہ 20 سے 25 نامعلوم افراد کے خلاف درج ہوا۔
پولیس نے مقدمہ درج کرتے وقت احتیاط برتی۔ کسی بھی گروپ کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں کیا گیا۔ مقدمہ اقدامِ قتل، دہشت گردی، بلوہ، لڑائی جھگڑے، املاک کو نقصان پہنچانے اور دیگر دفعات کے تحت نیو ٹاؤن تھانے میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق جھگڑے اور فائرنگ میں عامر، اسد اور کاشر علی زخمی ہوئے۔ پولیس نے تینوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کیا۔ تاہم زخمی افراد طبی مشورے کے باوجود اسپتال سے چلے گئے۔ اس وجہ سے پولیس ان کے بیانات ریکارڈ نہ کر سکی۔
پولیس کے مطابق اظہر عرف لمبا، ذیشان حبیب اور ان کے ساتھ موجود 20 سے 25 افراد نے ایک دوسرے پر فائرنگ کی۔ ملزمان نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔ اس واقعے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت نے اسلحہ کی نمائش اور بلوے پر دفعہ 144 نافذ کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود ملزمان نے مبینہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کی۔
پولیس نے مقدمہ درج کرنے کے بعد کیس کی تفتیش انویسٹی گیشن پولیس کے سپرد کر دی۔