ہاؤس رابری کے ایک مقدمے میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں ایسٹ زون پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے مبینہ ماسٹر مائنڈ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم کو تکنیکی شواہد اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔
پولیس نے گرفتار ملزم کی شناخت محمد عرفان اقبال ولد محمد اقبال کے نام سے کی ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر جوہر بلاک 2 میں ایک گھر میں ڈکیتی کی منصوبہ بندی کی، جہاں ملزمان اہلِ خانہ کو یرغمال بنا کر طلائی زیورات لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔
تفتیش کے دوران، پولیس کے مطابق ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے فیصل آباد سے اپنے ساتھیوں کو بلا کر واردات کرائی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم پہلے ممکنہ گھروں کی ریکی کرتا تھا، جس کے بعد اس کے ساتھی ڈکیتی کی واردات انجام دیتے تھے۔ پولیس نے ریکی اور واردات سے قبل کی مبینہ منصوبہ بندی سے متعلق اہم سی سی ٹی وی فوٹیجز بھی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ نمبر 175/2026 تھانہ گلستانِ جوہر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 397 اور 34 کے تحت درج ہے۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے ایک غیر قانونی پستول اور ایمونیشن بھی برآمد کیا گیا ہے۔
ایسٹ پولیس کے مطابق ملزم کا ایک ساتھی اس سے قبل بھی گلستانِ جوہر پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہو چکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم فیصل آباد کے تھانہ سمن آباد میں درج دو مقدمات میں بھی گرفتار رہ چکا ہے، جبکہ وہ تھانہ گلستانِ جوہر میں ڈکیتی اور ناجائز اسلحہ کے مقدمات میں بھی مفرور تھا۔
پولیس نے ملزم کے خلاف مزید مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ فرار دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں۔